‘فراڈ اور رشوت’، امریکی محکمہ انصاف بھارتی ارب پتی گوتم اڈانی کے خلاف مقدمہ واپس لینے کے قریب

امریکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ انصاف، بھارتی ارب پتی گوتم اڈانی کے خلاف فراڈ اور رشوت ستانی سے متعلق فوجداری مقدمہ ختم کرنے کے قریب ہے، جبکہ ایک متعلقہ سول مقدمے میں سمجھوتہ بھی طے پا گیا ہے۔

رپورٹ میں دو باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امریکی حکام اس کیس کو واپس لینے پر غور کر رہے ہیں، جس میں الزام تھا کہ گوتم اڈانی نے بھارتی حکام کو رشوت دے کر بھارت کے سب سے بڑے شمسی توانائی منصوبے کی منظوری حاصل کی۔

امریکی پراسیکیوٹرز کے مطابق اڈانی اور ان کے ساتھیوں نے مبینہ طور پر تقریباً 265 ملین ڈالر رشوت دینے کی اسکیم کے ذریعے تین ارب ڈالر سے زائد قرض اور بانڈز حاصل کیے، جبکہ سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں سے اصل حقائق چھپائے گئے۔

دوسری جانب اڈانی گروپ نے ہمیشہ ان الزامات کو ‘بے بنیاد’ قرار دیا ہے اور کسی بھی غلط کام سے انکار کیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق گوتم اڈانی کے وکیل رابرٹ جیوفرا، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی وکیل بھی ہیں، نے گزشتہ ماہ امریکی محکمہ انصاف کے حکام کو ایک تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ اس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ امریکہ کے پاس اس کیس کی قانونی حدودِ اختیار موجود نہیں اور شواہد بھی ناکافی ہیں۔

ذرائع کے مطابق وکیل نے یہ بھی کہا کہ جب تک مقدمہ جاری رہے گا، اڈانی گروپ امریکہ میں 10 ارب ڈالر کی مجوزہ سرمایہ کاری آگے نہیں بڑھا سکے گا۔ گوتم اڈانی نے 2024 کے امریکی انتخابات میں ٹرمپ کی کامیابی کے بعد امریکہ میں 15 ہزار ملازمتیں پیدا کرنے اور 10 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔

اسی دوران امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے دائر کردہ سول فراڈ کیس میں بھی سمجھوتہ طے پا گیا ہے۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق گوتم اڈانی اور ان کے بھتیجے سگر اڈانی 18 ملین ڈالر جرمانہ ادا کریں گے، تاہم دونوں نے کسی قسم کی غلطی تسلیم نہیں کی۔

اگرچہ امریکہ میں مقدمات ختم ہونے کی صورت میں اڈانی گروپ کو بڑی قانونی اور مالیاتی ریلیف مل سکتی ہے، لیکن بھارت میں سیکیورٹیز قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق متعدد تحقیقات اب بھی جاری ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں