متحدہ عرب امارات نے تقریباً 60 سالہ رکنیت کے بعد تیل پیدا کرنے والے عالمی اتحاد اوپیک سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ یکم مئی 2026 سے نافذ العمل ہوگا اور اسے خاص طور پر سعودی عرب کے ساتھ بڑھتے اختلافات کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، ابوظہبی اور ریاض کے درمیان گزشتہ چند برسوں سے تیل کی پیداوار، کوٹہ پالیسی اور خطے میں اثر و رسوخ کے حوالے سے اختلافات موجود تھے، جو اب واضح طور پر سامنے آ گئے ہیں۔ امارات کا مؤقف رہا ہے کہ اوپیک کی جانب سے عائد پیداوار کی پابندیاں اس کی معاشی حکمت عملی کے خلاف ہیں، جبکہ وہ اپنی تیل پیداوار بڑھا کر عالمی منڈی میں زیادہ حصہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، یہ فیصلہ اوپیک کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، کیونکہ متحدہ عرب امارات تنظیم کے اہم اور بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف اوپیک کی عالمی منڈی پر گرفت متاثر ہو سکتی ہے بلکہ یہ خلیجی سیاست میں بھی ایک نئی دراڑ بن کر سامنے آئی ہے، جہاں امارات زیادہ خودمختار خارجہ اور معاشی پالیسی اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، اس فیصلے کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بڑھنے کا خدشہ ہے، جبکہ امارات کو اپنی پیداوار میں اضافہ کر کے زیادہ منافع حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ توانائی کے شعبے سے جڑے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یو اے ای اپنی پیداوار بڑھاتا ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں خاطر خواہ حد تک گر سکتی ہیں۔