بنگلہ دیش کے وزیر قانون محمد اسد الزمان نے پارلیمنٹ کو بتایا ہے کہ حکومت برطانوی نوآبادیاتی دور اور پاکستان کے زمانے سے وراثت میں ملنے والے پرانے قوانین کا جائزہ لے کر انہیں موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
جمعرات کے روز ناوگاؤں-3 سے منتخب رکن اسمبلی محمد فضل خدا کے سوال کے جواب میں وزیر قانون نے کہا کہ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد 1973 میں بنگلہ دیش قوانین (نظر ثانی و اعلان) ایکٹ نافذ کیا گیا تھا تاکہ نئے ملک میں ایک مربوط قانونی ڈھانچہ قائم کیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ اس قانون کے تحت 26 مارچ 1971کے بعد نافذ ہونے والے تمام قوانین، صدارتی احکامات اور قانون سازی کے دیگر ذرائع کا جامع جائزہ لیا گیا، جن میں سے غیر متعلقہ یا ناقابلِ اطلاق قوانین کو ختم کر دیا گیا جبکہ بعض کو ملکی قانونی نظام کا حصہ نہ ہونے کا اعلان کیا گیا۔
وزیر قانون کے مطابق وقتاً فوقتاً ضرورت کے مطابق قوانین میں ترامیم بھی کی جاتی رہی ہیں تاکہ انہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ رکھا جا سکے، جبکہ نئے حالات اور ضروریات کے پیش نظر نئے قوانین بھی بنائے گئے ہیں۔
تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ برطانوی اور پاکستانی ادوار کے متعدد قوانین اب فرسودہ یا غیر مؤثر ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے قوانین کی نشاندہی کر کے متعلقہ فریقین سے مشاورت کے بعد مرحلہ وار انہیں ترمیم یا نئے قوانین کے ذریعے تبدیل کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس سلسلے میں لا کمیشن اس وقت کام کر رہا ہے اور اس کی سفارشات موصول ہونے کے بعد حکومت ضروری اقدامات کرے گی۔