نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نامزد کابینہ کے بعض افراد کو بم حملوں اور دیگر تشدد آمیز واقعات کے ذریعے جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں، جس پر امریکی سیاسی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کی جانب سے نامزد کردہ کم از کم 9 افراد کو دھمکیاں دی گئی ہیں، جن میں بم حملے یا کچل دینے جیسے خطرناک اقدامات شامل ہیں۔ ان افراد میں وزارت دفاع، ہاؤسنگ، زراعت، لیبر اور اقوام متحدہ میں امریکا کے نامزد سفیر شامل ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مدد کی اپیل
ٹرمپ کی اقتدار منتقلی ٹیم کی رکن کیرولین لیویٹ نے ان دھمکیوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نامزد افراد اور ان کے قریبی افراد کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے فوری اقدامات کی درخواست کی گئی ہے۔
کیرولین لیویٹ نے کہا کہ “دھمکیاں اور تشدد کی کارروائیاں ہماری راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود ایک مثال ہیں کہ ہم ایسے دباؤ کے سامنے جھکنے والے نہیں”۔
دھمکیوں کی ان اطلاعات کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان دھمکیوں سے ٹرمپ کی ٹیم کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے ان خطرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کریں گے۔