ازبک صدر کو نیلاب اور تلاجھہ لے جاتے

ازبک صدر جناب شوکت مرزائیوف پاکستان کے دورے پر ہیں ۔ سوچتا ہوں کاش میزبانوں میں کوئی ایسا بھی ہوتا جو کہتا کہ جناب صدر آئیے اب آپ کو نیلاب اور تلاجھہ لے جائیں جہاں آپ کے اور ہمارے اس سلطان کی یادیں خیمہ زن ہیں ، تاریخ جسے آج بھی رشک اور حیرت سے دیکھتی ہے ۔

قوموں کے درمیان تعلق کا ایک دھاگا بھی ہو تو وہ اسے اپنی حکمت سے رابطے کا پل بنا لیتی ہیں ، ہمارے اور ازبکستان کے درمیان تو شیر خوارزم سلطان جلال الدین جیسا حیرت کدہ ، قدرِ مشترک ، ہے ۔ تھوڑی سی بصیرت سے کام لیا جائے تو یہ نسبت ایک ایسے سماجی ، ثقافتی اور تہذیبی رشتے میں ڈھل سکتی جس کی کہیں مثال نہ ملتی ہو۔

شیر خوارزم سلطان جلال الدین جس مٹی سے اٹھا اسے آج ازبکستان کہتے ہیں ، مسلم امہ کے اس آخری حصار کو جن پہاڑوں نے پناہ دی ، انہیں پاکستان کی وادی تلاجھہ کہا جاتا ہے ۔ شیر خوارزم پر لکھی ازبک لوک داستانیں جہاں آ کر سرگم ہو جاتی ہیں وہ مقام بھی پاکستان میں ہے ، اسے نیلاب کہتے ہیں ۔ دفتر خارجہ میں ، افسر شاہی میں یا کابینہ میں کوئی صاحب ذوق ہوتا تو نیلاب اور اور تلاجھہ آج غیر معمولی سیاحتی مرکز بن چکے ہوتے۔

جلال الدین پر ہمارے ہاں بہت کم لکھا گیا لیکن اس کے باوجود جب جب اس کی کہانی پڑھی ، سحر سا طاری ہو گیا ۔ ازبک شاعر سیف الدین نے لکھا تھا جب ہم اپنے قبیلے کے بہادروں کے قصے لکھتے ہیں تو ہم جلال الدین کا ذکر نہیں کرتے کہ جہاں شیر خوارزم کی عملداری شروع ہوتی ہیں وہاں بہادری بھی ختم ہو جاتی ہے ۔ فارسی کے شاعروں نے اسے ’ ہزار مرد‘ کہا یعنی ایسا شجاع اور ایسا دلیر جو ہزار مردوں کے برابر ہو ۔ ازبکستان سے ترکی تک لوک داستانوں میں اسے مینگو باردی کہا جاتا ہے ، ایسا دلاور جسے کبھی موت نہیں آتی۔

چنگیزخان کو زندگی میں دو بڑی جنگوں اور سات چھوٹی جھڑپوں میں شکست ہوئی ، ہر بار مد مقابل ایک ہی تھا : سلطان جلال الدین ۔ چنگیز خان نے صرف ایک ہی دشمن کو بہادری پر خراج تحسین پیش کیا تھا وہ بھی جلال الدین تھا۔

نور الدین کورلاخ نے درست کہا تھا سلطان جلال الدین مسلم دنیا کا فدیہ تھا۔ یہ نہ ہوتا تو چنگیز خان کے ہاتھوں مسلم دنیا کی تباہی کی داستان زیادہ طویل اور دلفگار ہوتی ۔ اس کا باپ چنگیز سے مقابلے کے لیے اس کا مشورہ مان لیتا تو شاید دنیا کی تاریخ مختلف ہوتی۔ اس کے بھائی سازشیں کر کے تخت پر قابض نہ ہوتے تو شاید پھر بھی تاریخ کی کروٹ کچھ اور ہوتی۔ کیسا نجیب انسان تھا ، تخت بھائیوں کے پاس چھوڑ کر جنگل کو نکل گیا کہ سلطنت کسی اور آمائش میں نہ پڑ جائے۔

شکست کی راکھ سے اس نے عزیمت کا پرچم اٹھایا ۔ کبھی ہزارکبھی پانچ ہزار ، جتنے جنگجو ملتے وہ ان کے ساتھ چنگیز خان کے لیے چیلنج بنا رہا یہاں تک کہ وہ وقت آیا جب اس کے پاس ایک لشکر جرار تھا۔ اس نے چنگیز خان کو لکھا : تم میرے لیے جنگل جنگل خاک چھان رہے ہو، میں اس وقت یہاں بیٹھا ہوں ۔ تم آؤ گے یا میں آئوں‘‘۔

میجر ریوٹی نے لکھا ہے چنگیز خان کی زندگی میں یہ پہلا موقع تھا اسے کسی نے یوں چیلنج کیا ہواور چنگیز خان چیلنج قبول کرنے کی ہمت نہ کر سکا ۔ اسے معلوم تھا اگر جلال الدین یوں للکار رہا ہے تو شیر کے منہ میں سر دینا حکمت نہیں ۔۔۔۔۔۔

یہ میرے الفاظ نہیں ، چنگیزخان کے اس تذبذب کی یہ کہانی چنگیز کے منشی امیر عطا نے صدیوں پہلی لکھ دی تھی ۔ وہ لکھتے ہیں شیر خوارزم کے اس چیلنج نے چنگیز کو پاگل کر دیا تھا ۔ وہ صبح سے شام لشکر کی تیاریوں پر صرف کرنے لگ گیا ۔ لیکن پھر بھی اسے تسلی نہیں ہو ررہی تھی کہ کیا وہ جلال الدین کا مقابلہ کرنے کو تیار ہے یا ابھی کچھ کمی رہ گئی ہے۔ اسے معلوم تھا للکارنے والا کون ہے۔

یہاں تک کہ پھر ایک گھوڑے پر سلطان کے لشکر کے سالاروں میں جھگڑا ہو گیا اور پھوٹ پر گئی۔ افغان سالار ناراض ہو کرلشکر لے کر چلا گیا۔امیر عطا لکھتے ہیں جلال الدین کو خبر ہوئی تو بھاگ کر خیمے سے باہر آیا ، ان کی منتیں کیں ، رویا کہ ایسا نہ کرو ، مسلمانوں کے مستقبل کا خیال کرو لیکن جانے والوں کو کوئی کب روک سکا ہے۔لشکر آدھا رہ گیا۔ چنگیز خان تو گویا اسی موقع کے انتظار میں تھا۔باقی تاریخ ہے۔

سلطان جلال الدین نے ہندوستان کی طرف نکلنے کا فیصلہ کیا۔ سطان کے لڑنے کا انداز تو جدا تھا ہی، اس کی پسپائی بھی انسانی تاریخ کا حیرت کدہ ہے۔

ایسا نہیں ہوا کہ وہ اپنی بچی کھچی فوج لے کر بھاگ نکلا۔ تین ہزار سوار اور پانچ سو محافظین۔ یہ تھی اس کی کل فوج مگر یہ سلطان تیس ہزار پناہ گزینوں کو ساتھ لے کر نکل رہا تھا۔جس میں عورتیں تھیں، بچے تھے، بزرگ تھے، زخمی تھے۔وہ چاہتا تو اپنے گھڑ سوار لے کر کب کا اس علاقے سے نکل گیا ہوتا لیکن وہ اپنے پناہ گزینوں کو ساتھ لے کر جانا چاہتا تھا۔

یہیں اسے چنگیز خان کے لشکر نے آ لیا۔ ایک طرف سلطان جلال کے تیس ہزار پناہ گزین جن میں سپاہیوں کی تعداد صرف تین ہزار۔ دوسری جانب چنگیز کا ستر ہزار کالشکر جسے پچاس ہزار کی مزید کمک مل گئی ۔ تین ہزار بمقابلہ ایک لاکھ بیس ہزار۔

پھر بھی لڑنے والا اس انداز سے لڑا کہ ا س نے چنگیز کو جا لیا۔ چنگیز کے اپنے منشی عطا کی روایت ہے کہ قبل ا س کے کہ جلال چنگیز تک پہنچتا جب چند قدم کا فاصلہ رہ گیا تھا بیچ میں منگول آ گئے اور چنگیز خان جلال الدین سے دو بدو لڑنے کی بجائے پیچھے ہٹ گیا۔

نیلاب کے مقام پر کشتیاں چلتی تھیں اور لوگ ان سے دریا عبور کرتے تھے۔ اب لوگ زیادہ تھے اور کشتیاں کم۔ عورتوں بچوں کو لے کر کشتیاں جاتیں اور واپس آتیں اور یہ طویل کام تھا ۔ تیمور ملک نے سلطان سے درخواست کی : سب سے پہلے آپ دریا کے پار اتر جائیے ۔ سلطان نے انکار کر دیا کہ وہ سب سے آخر میں جائے گا۔ سلطان ہی نے نہیں اس کے اہل خانہ نے بھی انکار کر دیا کہ پہلے پناہ گزین رعایا جائے گی پھر شاہی خاندان۔

تیمور ملک کا اصرار بڑھا تو سلطان نے غصے سے کہا:”میں جلال الدین ہوں“۔ یہ گویا تیمور ملک کو ایک تنبیہہ تھی کہ یہ مشورہ کسے دے رہے ہو۔ کیا تم بھول گئے تمہارے سامنے جو شخص کھڑا ہے اس کا نام جلال الدین ہے۔

اس فقرے میں جہاں معنی تھا۔ تیمور ملک پیچھے ہٹ گیا۔ یہ فقرہ ازبک ترک اور فارسی لوک داستانوں میں امر ہو گیا۔آٹھ سو سال بعد اب جب سلطان پر ترکوں نے ڈرامہ بنا یا تو اس کا نام یہی رکھا : میں ہوں جلال الدین۔

جس مقام پر سلطان نے اپنا گھوڑا دریا میں ڈالا ، میں نے وہ مقام جا کر دیکھا تو حیرت زدہ رہ گیا ۔اکثر سوچتا تھا کہ ایک شکست خوردہ سلطان کے پہاڑ کی چوٹی سے دریا میں چھلانگ لگانے میں ایسا کیا تھا کہ چنگیز خان جیسا آدمی بھی یہ منظر دیکھ کر ششدر رہ گیا اور اس نے اپنے بیٹے کو بلا کر کہا کہ اس بہادر انسان کو دیکھو، اس کی ماں کو ناز کرنا چاہیے جس نے اس جیسے جنگجو کو جنم دیا۔

یہ پہاڑی میرے سوال کا جواب تھی۔ یہ عقل و شعور کی حدوں سے آگے کا قدم تھا۔یہ کسی انسان کا کام نہ تھا، یہ جلال الدین ہی کو زیبا تھا۔ ازبک قوم نے کیا حسب حال نام رکھا ہوا ہے: جلال الدین ہزار مرد۔ سلطان تو پھر جلال الدین تھا، اس گھوڑے پر بھی آفرین ہے جو مالک کے اشارے پر اتنی بلندی سے دریا میں کود گیا اور دریا کے اس پار بھی لے گیا۔

روایت ہے کہ اس گھوڑے سے سلطان کو عشق تھا۔ یہ گھوڑا آخری معرکے تک سلطان کے ساتھ رہا لیکن اس چھلانگ کے بعد سلطان اسے کبھی میدان جنگ میں نہیں لے گیا کہ اسے کچھ ہو نہ جائے۔ اسے اس نے صرف محبت کی یاد گار کے طور پر اپنے ساتھ رکھا۔

یہاں سے سلطان کلر کہار پہنچا ، چنگیز خان کے جاسوس اس کے پیچھے تھے ۔ سلطان مزید آگے چلا گیا اور اس نے وادی سون کے قلعے تلاجھا میں جا کر خیمے ڈال لیے۔

سلطان کی محبت میں ، میں اس قلعے تک بھی گیا سون کی وادی میں کچے راستے پر میلوں اندر جانے کے بعد ایک موڑ آیا تو دور پہاڑ کی چوٹی پر جلال الدین خوارزم شاہ کے قلعے پر پہلی نظر پڑی اور حیرت سے وہیں جم کر رہ گئی ۔ قلعہ نہیں تھا ، یہ شیر خوارم کی کچھار تھی ۔ بادشاہوں کے قلعے دلی ، لاہور اور روہتاس کے قلعوں جیسے ہوتے ہوں گے لیکن شیروں کی کچھار ایسی ہی ہوتی ہے جیسے یہ قلعہ تھا ۔ اس قلعے کو کبھی جا کر دیکھیے ، یہ ایک مکمل حیرت کدہ ہے۔ یہاں چنگیز خان پورا لشکر لے کر بھی آتا تو برباد ہو جاتا ۔

قدرت نے شاید یہ پہاڑ بنایا ہی اسی لیے تھا کہ ایک روز خوارزم کا زخمی سلطان یہاں آئے تو سنگلاخ چٹانیں اس کا قالین ، نیلا آسمان اس کی چھت اور حیران کر دینے والا عمودی پہاڑ اس کی فصیل بن جائیں ۔ ۔۔۔ یہ قلعہ تلاجھہ تھا۔

تلاجھہ میں سلطان نے اپنی قوت جمع کی۔ پروانےا س کے گرد جمع ہوتے رہے۔ وادی سون کا اعوان قبیلہ اس کا پہلا دست و بازو بنا ۔ سلطان کو وہ وقت بھولا نہیں تھا کہ جب وہ بے سروسامانی میں ہندوستان آیا تو اس نے التتمش سے پناہ مانگی ۔ چنگیز کے ڈر سے دہلی کے سلطان نے بظاہر اچھے انداز سے معذرت کر لی ۔ ساتھ لکھ بھیجا کہ اگر آپ ان علاقوں کو فتح کر لیں جو میری سلطنت میں نہیں تو ہم وہاں آ پ کی حکومت تسلیم کر لیں گے۔

چند سو سپاہیوں کے ہمراہ در بدر سلطان کو یہ پیغام دینا اس کا مذاق اڑانے کے برابر تھا مگر وہ جلال الدین تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اگلے چھ ماہ میں وہ سندھ تک کا علاقہ فتح کر کے سلطنت قائم کر چکا تھا۔

اب حساب برابر کرنے کا وقت تھا ۔ چنانچہ ایک روز جلال الدین کا قاصد دلی کے بادشاہ کے پاس جا پہنچا کہ ایک علاقے میں سلطان ایک ہی رہ سکتا ہے آؤ اب ذرا فیصلہ کر لیں کہ کس نے رہنا ہے۔

دہلی کے سلطان کو معلوم تھا مقابلہ کس سے ہے۔ اس نے لکھ بھیجا کہ آپ سلطان ہو، سلطان زادے ہو، ہمارے بیچ لڑائی سے اسلام کا نقصان ہو گا ۔ جلال الدین نے خط پڑھا اور حملے کا ارادہ ترک کر دیا ۔

مورخین نے لکھا ہے کہ ایک روز نماز فجر کے بعد جلال الدین نے حکم دیا کہ ہم واپس جا رہے ہیں، ہم یہاں حکومت کرنے نہیں آئے، ہم یہاں طاقت بحال کرنے آئے تھے۔ ہمارا یہاں کوئی کام نہیں، ہم نے واپس جا کر منگولوں سے لڑنا ہے کیونکہ منگولوں کو روکا نہ گیا تو وہ مکہ اور مدینہ کے مقامات مقدسہ تک جا پہنچیں گے۔شام تک جلال الدین اپنی ہنستی بستی سلطنت چھوڑ کر چنگیز خان سے لڑنے واپس جا چکا تھا۔

دہلی کے سلطان کو یہ خبر ملی کہ خوارزم کا سلطان سلطنت چھوڑ کر واپس چلا گیا ہے تو اسے یقین نہ آیا۔ کتنی ہی دیر وہ اپنے گورنر کا مکتوب ہاتھ میں تھامے سکتے کے عالم میں بیٹھا رہا اور پھرصرف اتنا کہہ سکا : السلطان الاعظم، سلطان جلال الدُنیا والدِین۔

میزبانوں میں سے کسی کو یہ کہانی معلوم ہوتی تو وہ نیلاب اور تلاجھہ میں یاد گاریں بناتےاور ازبک صدر سے ان کا افتتاح کرواتے۔ سیاحتی امکانات تو پیدا ہوتے ہی ہوتے ، پاکستان اور ازبکستان کا سماج ایک تہذیبی اور ثقافتی رشتے میں بھی بندھ جاتا۔ یہ نہیں تو ان مقامات کی ایک تصویری البم ہی ازبک صدر کو پیش کر دی جاتی۔ اسلام آباد میں کہیں سلطان جلال الدین کا مجسمہ نصب کر کے وہاں ازبک صدر کو لے جا کر ایک تقریب منعقد کر لی جاتی۔

پاکستان ٹیلی وژن پر سلطان جلال الدین کا ایک ڈرامہ چلا تھا جو نسیم حجازی کے ناول آخری چٹان سے ماخوذ تھا ، اس ڈرامے کی کاپیاں ازبک صدر کو پیش کی جا سکتی تھیں۔ اسے ازبک ڈبنگ کے ساتھ ازبکستان میں چلایا بھی جا سکتا تھا۔ نسیم حجازی کے اس ناول کا ترجمہ بھی کیا جا سکتا ہےا ور اسے ازبکستان بھجوایا جا سکتا ہے۔

خواہشات اور امکانات کی یہ فہرست طویل ہے ، کوئی کتنا لکھے۔ ابھی ایک اور سوال نے دیوار دل پر دستک دی ہے کہ کیا تاشقند اردو اور برادرم ذبیح اللہ بلگن سے کہا جا سکتا ہے کہ تاشقند اردو میں ہی اس سانجھے سلطان کا کوئی گوشہ مختص کر دیں ۔ کچھ یہاں کا احوال لکھیں ، کچھ وہاں کا۔ گورگنج سے نیلاب اورنیلاب سے تلاجھہ تک ، جتنے نقوش موجود ہیں جمع کر دیں ۔

یہ کسی عام سے سلطان کا قصہ نہیں ، یہ السلطان الاعظم، سلطان جلال الدنیا والدین کی داستان ہے۔ یہ مینگو باردی کی کہانی ہے۔ یہ سانجھی میراث ہے۔ اس کی طاقت کو پہچانے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں