ایک حالیہ سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزمرہ استعمال کی جانے والی مصنوعات، جیسے پلاسٹک کی بوتلیں، کاسمیٹکس اور دیگر کنزیومر آئٹمز، سے خارج ہونے والی مائیکروپلاسٹک پارٹیکلز براہِ راست پانکریاس پر نقصان دہ اثر ڈال سکتی ہیں۔ اس تحقیق نے انسانی صحت کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
گذشتہ مطالعات میں مائیکروپلاسٹکس کو متعدد صحت کے مسائل، جیسے ہارمونز کی بے ترتیبی، ذیابیطس، فالج اور مختلف قسم کے کینسر سے جوڑا گیا تھا۔ تاہم زیادہ تر تحقیقات میں یہ واضح نہیں ہو سکا تھا کہ یہ اثرات براہِ راست پانکریاس کے خلیوں پر پڑتے ہیں یا نہیں۔
نئی تحقیق میں واضح کیا گیا ہے کہ پولی ایتھیلین ٹیری فتالٹ (PET)، جو زیادہ تر پلاسٹک کی بوتلوں اور کنزیومر مصنوعات میں پایا جاتا ہے، پانکریاس کے خلیوں کے لیے زہریلا ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف خلیوں کی موت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ پانکریاس کے معمول کے کام میں بھی خلل پیدا ہوتا ہے۔
پولینڈ اور اسپین کے محققین نے اس تحقیق میں خنزیر کے پانکریاس کے ٹشو پر مختلف مقدار میں PET مائیکروپلاسٹکس کے اثرات کا تجربہ کیا۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ یہ پارٹیکلز خلیوں کی موت کو بڑھا سکتے ہیں اور اس عضو کی عام فعالیت کو متاثر کر سکتے ہیں، جس سے ذیابیطس اور موٹاپے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی دریافت ہوا کہ مائیکروپلاسٹکس ایسے اہم پروٹینز کے کام میں مداخلت کرتے ہیں جو پانکریاس کی صحیح فعالیت کے لیے ضروری ہیں۔ اس مداخلت کی وجہ سے پانکریاس اپنے کردار کو مناسب طور پر ادا نہیں کر پاتا، اور جسم میں انسولین اور دیگر ہارمونز کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔
محققین نے خبردار کیا ہے کہ یہ نتائج انسانی صحت کے لیے ایک سنگین انتباہ ہیں اور ہمیں روزمرہ استعمال کی جانے والی پلاسٹک مصنوعات کے خطرات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا