نئے سال کی تعطیلات کے دوران چینی سیاحوں کی آمد میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ازبکستان اور قازقستان میں پروازوں کی بکنگ گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہو گئی ہے، جس کا اندازہ معروف آن لائن ٹریول پلیٹ فارم( Qunar) نے دیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی دی آستانہ ٹائمز کے مطابق، اگرچہ جنوبی کوریا چینی سیاحوں کے لیے اب بھی سب سے زیادہ مقبول ملک ہے، تاہم قازقستان، ازبکستان اور جارجیا نے بھی اس عرصے میں نمایاں ترقی دیکھی۔ یہ اضافہ خاص طور پر ویزا فری سہولت کے نفاذ کے بعد ممکن ہوا، جس نے چینی سیاحوں کے لیے بین الاقوامی سفر کو آسان اور تیز تر بنا دیا ہے۔
ہینان صوبے میں سیاحت میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی، جہاں گزشتہ دسمبر میں خود مختار کسٹمز آپریشن کے آغاز کے بعد سیاحتی آمد میں اضافہ ہوا۔ سب سے زیادہ ترقی سانیا میں دیکھی گئی، جہاں بکنگ پانچ گنا بڑھ گئی، جبکہ ہائیکو میں تین گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ابتدائی جنوری میں ہینان آنے والے سیاحوں میں ملائشیا، تھائی لینڈ، جنوبی کوریا، ویتنام، آسٹریلیا اور روس کے شہری شامل تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ علاقہ عالمی سیاحت کے لیے اہم مرکز بنتا جا رہا ہے۔
ازبکستان اور قازقستان میں چینی سیاحوں کی بڑھتی ہوئی آمد مقامی سیاحت اور معیشت کے لیے خوش آئند ہے۔ اس کے نتیجے میں ہوٹل، ریسٹورنٹ، ٹرانسپورٹ اور دیگر سیاحتی سہولیات کو فروغ ملے گا، اور مستقبل میں دونوں ممالک کے لیے بین الاقوامی سیاحت میں مزید اضافہ متوقع ہے