ازبکستان کی وزارتِ خارجہ نے افغانستان میں ازبک زبان کے استعمال پر پابندیوں سے متعلق خبروں کی تردید کر دی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ ازبک زبان کا بین الاقوامی تشخص، اس کا وسیع استعمال اور عالمی سطح پر اس کا فروغ، ازبکستان کی خارجہ پالیسی کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
میڈیا اور سوشل نیٹ ورکس پر گردش کرنے والی مبینہ پابندیوں کی خبروں سے عوام میں تشویش پیدا ہوئی، جس کے بعد ازبک وزارتِ خارجہ کے نمائندوں نے فوری طور پر افغان حکام سے رابطہ کر کے صورتِ حال کی وضاحت حاصل کی۔
افغان حکام نے دوٹوک انداز میں ان خبروں کو غلط قرار دیا اور کہا کہ ملک میں ازبک زبان کے استعمال پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی، جبکہ افغان حکومت اور عوام برادر ازبک قوم اور اس کی زبان کے لیے بدستور احترام رکھتے ہیں۔
افغان وزارتِ خارجہ کے ایک سرکاری نمائندے نے وضاحت کی کہ سرکاری اور تعلیمی اداروں میں سائن بورڈز کو یکساں بنانے کے عمل کے تحت تین زبانوں کا نظام نافذ ہے، جس میں پشتو، دری اور انگریزی شامل ہیں۔ تاہم شمالی علاقوں، بشمول سمنگان یونیورسٹی، کے لیے استثنا رکھا گیا ہے، جہاں سائن بورڈز پشتو، دری اور ازبک زبان میں ہیں۔
مزید برآں، حسنِ ہمسائیگی اور باہمی اعتماد کی علامت کے طور پر افغان حکومت پہلی مرتبہ جوزجان اسٹیٹ یونیورسٹی میں ازبک زبان و ادب میں ماسٹرز پروگرام شروع کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے، جس کا تعلیمی سال رواں سال کے آغاز میں شروع ہونے کی توقع ہے۔