بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے بھارت میں ہونے والے آئندہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنی ٹیم کی شرکت سے متعلق سکیورٹی خدشات کے حل کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ساتھ قریبی تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
بی سی بی کے مطابق آئی سی سی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایونٹ کی سکیورٹی منصوبہ بندی میں بنگلہ دیش کے تحفظات کو سنجیدگی سے شامل کیا جائے گا۔ دونوں ادارے ایک قابلِ قبول اور عملی حل تک پہنچنے کے لیے بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ ٹیم کی شرکت یقینی بنائی جا سکے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل بنگلہ دیش نے اعلان کیا تھا کہ اس کی ٹیم سکیورٹی خدشات کے باعث بھارت کا سفر نہیں کرے گی اور اس نے آئی سی سی سے اپنے میچز سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کی تھی۔ بھارت اور سری لنکا مشترکہ طور پر فروری سے شروع ہونے والے اس ٹورنامنٹ کی میزبانی کر رہے ہیں، تاہم بنگلہ دیش کے تمام گروپ میچز بھارت میں رکھے گئے ہیں۔
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب بنگلہ دیش کے اسٹار فاسٹ بولر مصطفیٰ الرحمٰن کو انڈین پریمیئر لیگ میں ان کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز سے نکال دیا گیا، جس پر بنگلہ دیش میں شدید ردعمل سامنے آیا اور آئی پی ایل کی نشریات پر بھی پابندی لگا دی گئی۔
دوسری جانب میڈیا میں یہ خبریں بھی آئیں کہ آئی سی سی نے بنگلہ دیش کو بھارت جا کر کھیلنے یا پوائنٹس ضائع کرنے کی وارننگ دی ہے، تاہم بی سی بی نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں کی گئی۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان سفارتی تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں، اور حالیہ واقعات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ تعلقات بھی دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں