نوجوان اور کردار کی تعمیر

نوجوانی انسان کی زندگی کا سب سے حسین اور فیصلہ کن دور ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب انسان کے اندر خواب، ولولہ اور توانائی بیدار ہوتی ہے۔ اگر نوجوان اپنی قوتوں کو صحیح سمت دے تو وہ دنیا بدل سکتا ہے، لیکن اگر انہیں غفلت میں ضائع کر دے تو پوری زندگی کا راستہ بگڑ سکتا ہے۔ اسلام نے نوجوانی کو نعمت قرار دیا ہے اور اس کے درست استعمال پر زور دیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "قیامت کے دن انسان کے قدم نہیں ہلیں گے جب تک پانچ چیزوں کا جواب نہ دے دے، ان میں ایک یہ بھی ہے کہ اپنی جوانی کہاں صرف کی” (ترمذی: 2417)۔
یہ حدیث بتاتی ہے کہ جوانی لطف نہیں بلکہ ذمہ داری کا زمانہ ہے۔

کردار کی تعمیر دراصل دل سے شروع ہوتی ہے۔ جب دل ایمان سے روشن ہوتا ہے تو اخلاق کے چراغ جل اٹھتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی پوری زندگی صبر، دیانت، عفو اور خیر خواہی کی عملی مثال ہے۔ اگر نوجوان اپنی زندگی کو نبی ﷺ کے اسوہ پر استوار کرے تو کامیابی خود اس کے قدم چومے گی۔

اسلامی تاریخ میں نوجوانوں نے کردار کی بنیاد پر تاریخ بدل دی۔ حضرت علیؓ کی شجاعت، حضرت اسامہ بن زیدؓ کی قیادت، حضرت مصعب بن عمیرؓ کی قربانی اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی علم دوستی کردار سازی کے روشن نمونے ہیں۔ ان کے کردار میں وہ استقامت اور ایمان تھا جو کسی مفاد کے سامنے نہیں جھکا۔ یہی کردار اسلام کی اصل طاقت بنا۔

آج کا نوجوان علم و ٹیکنالوجی کے سمندر میں ہے مگر آزمائشوں میں بھی گھرا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا، فیشن اور مادیت کے اس دور میں اصل کردار کو محفوظ رکھنا مشکل ہو چکا ہے۔ کردار کی تعمیر کا مطلب صرف ظاہری شرافت نہیں، بلکہ اندرونی استقامت، فکری پختگی اور اخلاقی جرات ہے۔ نوجوان کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر ایسا توازن پیدا کرے جس میں جدیدیت بھی ہو اور روحانیت کی روشنی بھی باقی رہے۔ اگر نوجوان ٹیکنالوجی کا ماہر ہو اور دین کا شعور بھی رکھتا ہو تو وہ امت کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔

اکابرینِ امت نے ہمیشہ تربیت پر زور دیا۔ امام غزالیؒ نے فرمایا کہ علم کا اصل مقصد عمل ہے اور عمل کا نتیجہ کردار۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں کہ علم اگر اصلاحِ نفس کے بغیر ہو تو وہ ایک خالی برتن ہے جو آواز تو دیتا ہے مگر پیاس نہیں بجھاتا۔ علم اور کردار کا یہی توازن کامیابی کی کنجی ہے۔

کردار کی بنیاد چند اصولوں پر ہے: سچائی، امانت، صبر، خدمت، شکر اور حیا۔ سچائی انسان کو اعتماد دیتی ہے، امانت داری اسے عزت بخشتی ہے، صبر اسے مضبوط بناتا ہے، خدمت محبوب بناتی ہے، شکر قناعت سکھاتا ہے اور حیا وقار عطا کرتی ہے۔ یہی اوصاف انسان کے باطن کو روشن کرتے ہیں۔

نوجوان کا کردار صرف ذاتی فائدے کے لیے نہیں، بلکہ پوری قوم کے لیے اہم ہے۔ ایک باکردار نوجوان ایک خاندان نہیں، بلکہ ایک نئی تاریخ بنا سکتا ہے۔ آج امتِ مسلمہ کو سب سے بڑا بحران کردار کا ہے۔ علم ہے مگر عمل نہیں، زبان ہے مگر صداقت نہیں، دولت ہے مگر دیانت نہیں۔ اس خلا کو وہی نوجوان پُر کر سکتے ہیں جن کے دل ایمان سے اور ذہن علم سے روشن ہوں۔

سیرتِ نبوی ﷺ کردار سازی کا سب سے بڑا نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کو صرف الفاظ سے نہیں، بلکہ عمل سے تربیت دی۔ دشمن کے سامنے سچ بولنا، امانت واپس کرنا، مظلوم کا ساتھ دینا اور دنیاوی فائدے کے لیے دین کو قربان نہ کرنا؛ یہی کردار کا جوہر ہے۔ ان تعلیمات پر عمل ہی کامیابی کا راستہ ہے۔

اکابرینِ امت کی زندگی بھی اسی کردار کی روشن مثال ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا عدل، امام ابو حنیفہؒ کی دیانت، امام احمد بن حنبلؒ کا استقامت اور شاہ ولی اللہؒ کی اصلاحی فکر نوجوانوں کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہیں۔ ان ہستیوں نے دنیا کو تلوار سے نہیں بلکہ کردار کی قوت سے بدلا۔

نوجوان اگر اپنے کردار کو سنوارنا چاہے تو سب سے پہلے نیت درست کرے۔ نیت اللہ کی رضا کے لیے ہو، نہ شہرت یا مفاد کے لیے۔ پھر اپنے وقت کی قدر کرے۔ وقت ضائع کرنے والا نوجوان خود اپنے مستقبل کا دشمن ہے۔ قرآن کہتا ہے: "قسم ہے زمانے کی، انسان خسارے میں ہے سوائے ان کے جو ایمان لائے، نیک عمل کیے اور حق و صبر کی تلقین کی” (العصر)۔ اس آیت میں کردار کی پوری عمارت بیان ہو گئی ہے: ایمان بنیاد ہے، نیک عمل دیواریں اور صبر و حق اس کی چھت۔

آج نوجوانوں کو سوشل میڈیا کی چمک دمک میں گم ہونے کے بجائے اپنی روح کی آواز سننی چاہیے۔ نبی ﷺ کی سنتوں پر عمل، اپنے ماضی سے بہتر بننے کی کوشش، اور تنہائی میں بھی نیکی پر قائم رہنا ہی سچے کردار کی علامت ہے۔

قوموں کی ترقی ان کے نوجوانوں سے ہے۔ اگر نوجوان بیدار، باکردار اور باایمان ہوں تو قوم غلامی سے نکل کر قیادت تک پہنچتی ہے۔ اگر وہ مفاد پرست یا کمزور کردار کے حامل ہوں تو ترقی یافتہ قومیں بھی زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔ آج امت کو ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو کردار کی روشنی سے اندھیروں کو مٹا سکیں۔

نوجوانی کی طاقت تب بابرکت بنتی ہے جب وہ ایمان، علم اور اخلاق پر قائم ہو۔ خواہشات پر قابو پانا، سچ بولنا چاہے نقصان ہو، دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنا؛ یہی کردار کی تعمیر ہے۔ یہی کردار انسان کو عزت دیتا ہے، قوم کو وقار بخشتا ہے اور دنیا میں خیر پھیلاتا ہے۔

کردار کی تعمیر ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ یہ خود احتسابی، دعا اور صبر سے بنتی ہے۔ جو نوجوان اس راستے پر چل پڑے، وہ زمانے کے بدلتے رجحانات سے متاثر نہیں ہوتا، بلکہ خود زمانے کا رخ بدل دیتا ہے۔ وہ اپنے اخلاق سے دل جیتتا ہے، اپنے عمل سے مثال بنتا ہے اور اپنی سچائی سے امت کا فخر بن جاتا ہے۔

یقیناً کامیاب وہی نوجوان ہے جو اپنے خالق کے سامنے سرخرو ہو، کیونکہ دنیا کی کامیابیاں عارضی ہیں، مگر وہ کردار جو اللہ کے لیے تعمیر کیا جائے، وہی ابدی ہے۔ یہی کردار انسان کا اصل سرمایہ، قوم کی اصل طاقت اور امت کی اصل پہچان ہے

Author

اپنا تبصرہ لکھیں