پاکستانی کرکٹرز کے جارحانہ انداز پر تنقید کیوں؟

آج صبح سے میں نے کئی سوشل میڈیا پوسٹیں دیکھیں جن میں پاکستانی کرکٹرز کا مذاق اڑایا گیا کہ یہ میچ جیت تو نہیں سکے، ایسے ہی اگریشن دکھاتے رہے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ بھارتی کپتان سوریا کمار یادو نے بھی کہا کہ اب ہمارا پاکستان کے ساتھ مقابلہ نہیں رہا ہے کیونکہ ہم دس میں سے نو میچ جیت جاتے ہیں۔ سوریا کمار کی بات اس لئے غلط ہے کہ کمپیٹیشن نتائج پر نہیں ہوتا، قوموں کے ایک دوسرے سے حریف یا حلیف ہونے پر ہوتا ہے اور ٹیم سے عوام کتنی توقع رکھتے ہیں، اس پر یہ بات منحصر ہے۔ جیسے آسٹریلیا اور انگلینڈ میں سے کوئی ایک ٹیم بے شک مسلسل چار پانچ ایشز جیت جائے، ہر بات ایشز میں مقابلہ ہوگا، ہر ٹیم جیتنے کے لئے اپنا زور لگائے گی اور وہ ریلیکس ہونا افورڈ نہیں کر سکتی۔ یہی معاملہ پاک بھارت میچ کا ہے۔ اگر انڈیا اپنے آپ کو اتنا سپر سمجھتا ہے تو اس نے پاکستان کے خلاف میچ کے لئے اپنی بیسٹ ٹیم کیوں میدان میں اتاری۔ عمان کے خلاف میچ میں تو بمرا وغیرہ نہیں تھے، پاکستان کے خلاف سب واپس آ گئے۔ یہ مقابلے کا دباو ہی ہے۔

میں اس بات سے بھی اتفاق نہیں کرتا کہ پاکستان کے کھلاڑیوں حارث روف اور صاحبزادہ فرحان نے کچھ غلط کیا ہے۔

جو دوست صاحبزادہ فرحان کے ہوائی فائرنگ کے پوز پر تنقید کر رہے ہیں، وہ تو میچ کے بعد نتیجہ دیکھنے کے بعد کیا گیا تبصرہ ہے۔ آپ یہ کیسے بھلا سکتے ہیں کہ صاحبزادہ فرحان نے میچ کے دوران ایسا کیا تھا۔ اس نے ففٹی لگائی اور خاصی اچھی تیز جارحانہ اننگ کھیلی ۔ اس کی ففٹی تینتیس گیندوں پر بنی جو کہ ڈیڈھ سو کے لگ بھگ سٹرائیک ریٹ بنتا ہے۔ اس نے بمرا جیسے باولر کو عمدہ شاٹس لگائے، بعد میں دیگر سپنرز کو بھی اونچے شاندار چھکے لگائے ، حتیٰ کہ گواسکر جیسا کھلاڑی بھی داد دینے پر مجبور ہوگیا۔

ففٹی کے بعد چند گیندیں فرحان سے مس ہوئیں، صائم ایوب آوٹ ہوا اور حسین طلعت آیا تو پریشر بڑھ گیا۔ فرحان جب آوٹ ہوا تو اس کا سٹرائیک ریٹ نیچے آگیا تھا، مگر اس کی ففٹی اچھے سٹرائیک ریٹ سے بنائی گئی تھی اور وہ ہوائی فائرنگ والا پوز اس نے ففٹی کے بعد بنایا تھا، میچ ہارنے کے بعد نہیں۔

کھلاڑی میچ کے دوران اگریشن یا جارحانہ انداز اپناتے ہی ہیں۔ اس میں ایسی کیا حیرت کی بات ہے۔ یہ انڈرسٹڈ بات ہے۔ فرحان پٹھان ہے اور پشتونوں میں بلکہ افغانوں میں بھی خوشی کے مواقع پر ہوائی فائرنگ ایک عام رواج ہے،دستور ہے، کلچر ہے۔ اس نے تو صرف ہوائی فائرنگ کا اشارہ ہی کیا۔ کون سی سچ مچ بندوق چلا دی تھی۔

حارث روف کو مسلسل بھارتی تماشائی ہوٹ کر رہے تھے، ٹرول کر رہے تھے، اس نے رافیل گرائے جانے کا ہاتھ سے اشارہ کیا اور چھ صفر کا اشارہ کیا تو اس میں کیا غلط ہوگیا؟

پاکستان میچ ہار گیا، میں نے اس پر تفصیلی تجزیہ رات لکھا، تنقید بھی کی ہے، مگر اس میچ میں چند ایک اچھی باتیں بھی ہوئی ہیں۔ اگر کمپلیکس سے باہر نکل آئیں اور خود ترسی کی دلدل سے نکل سکیں تو ان پر نظر ڈال لی جائے۔

بمرا اس وقت انڈیا کا نمبر ون باولر ہے، کہا جاتا ہے کہ اسے ٹی ٹوئنٹی میں مارنا تقریباً ناممکن ہے۔ پچھلے میچ میں فرحان نے بمرا کو چھکا لگایا تو کہا گیا کہ پہلا پاکستانی اوپنر ہے جس نے بمرا کو چھکا لگایا۔ رات میچ میں پہلے فخر زمان نے باہر نکل کر بمرا کو دو شاندار چوکے لگائے، یوں لگ رہا تھا جیسے کسی کلب لیول کے باولر کو کھیل رہا ہو۔ افسوس کہ فخر زماں کو تھرڈ امپائر کی دھاندلی سے آوٹ کرا دیا گیا۔ پھر صاحبزادہ فرحان نےا چھی بیٹنگ کی۔ بمرا کل بہت مہنگا باولر رہا، اس کی خوب دھنائی ہوئی۔

کلدیپ یادو ایسا سپنر ہے جو پاکستانی بلے بازوں کے اعصاب پر سوار تھا۔ کل یادو کو تین چھکے لگائے گئے، صائم ایوب نے بھی اسے نکل کر مارا، فرحان نے بھی مارا اور بعد میں سلمان آغا نے بھی چھکا لگایا۔ کلدیپ یادو کل کے میچ میں زیادہ کامیاب نہیں رہا۔

پاکستانی کپتان کی غلطیوں سے پہلے حسین طلعت اور پھر نواز نے گیندیں مس کیں اور یوں دباو بڑھا ورنہ یادیو کا آخری اوور بھی مہنگا پڑتا۔ اسی طرح ہاردک پانڈیا کی بھی خاصی پٹائی ہوئی۔ حتیٰ کہ چکرورتی کو بھی اچھے شاٹس لگائے، آخری اوور وہ البتہ اچھا کرا گیا۔ کل رات انڈیا کا پارٹ ٹائم باولر انہیں بچا گیا، خاص کر پہلے تین اوورز میں۔

پاکستانی کپتان نے بیٹنگ آرڈر میں غلطیاں کیں اور پھر باولنگ میں بروقت تبدیلیاں نہیں کیں، اگر وہ فہیم اشرف کو کچھ جلدی لے آتا اور صائم ایوب کی پہلے دو اوورز میں پٹائی کے بعد اس سے تیسرا اوور نہ کراتا تو شائد میچ کا نتیجہ مختلف ہوجاتا۔

پاکستان پہلا میچ بری طرح ہار گیا تھا، ہار تو کل کا میچ بھی گیا، مگر اس میں فائٹ کی گئی۔ بعض شعبوں میں پاکستان کی کارکردگی اچھی رہی۔ اگر کپتان بیٹنگ آرڈر درست رکھتا تو بیس رنز مزید بن جاتے ۔ اگر ایک سو نوے رنز بورڈ پر ہوتے تو میچ زیادہ کلوز چلا جاتا ، شائد آخری گیند پر۔ اگر باولنگ میں تبدیلیان بروقت ہوتیں تو پاکستان یہ میچ جیت سکتا تھا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارتی ٹیم اس وقت پاکستان سے بہتر ہے، اس میں کئی بڑے تجربہ کار کھلاڑی ہیں، بمرا، پانڈیا، کلدیپ یادو، سوریا کمار یادو چکرورتی، اکثر پٹیل،شبمن گل وغیرہ ۔

جو نئے کھلاڑی ہیں انہیں بھی آئی پی ایل میں کئی برس مسلسل کھیلنے کا اچھا خاصا تجربہ حاصل ہے۔ پھر یہ کھلاڑی اچھے ردھم میں ہیں، مسلسل پرفارم کر رہے ہیں۔ ان کی ٹیم مینجمنٹ، کوچنگ وغیرہ میں ایک تسلسل ہے۔ یہ سب مثبت نکات ہیں۔

پاکستانی ٹیم ناتجربہ کار ہے، اس میں کمزوریاں ہیں، ٹیم مینجمنٹ اور کوچنگ میں تسلسل نہیں۔ پر چھ ماہ بعد نیا کوچ آیا ہوتا ہے۔ یہ سب منفی نکات ہیں۔

پاکستانی ٹیم مگر ایسی ماٹھی بھی نہیں، اس میں جان ہے، کھلاڑیوں میں اگر اگریشن ہے تو یہ بھی ان کے جاندار ہونے اور پراعتماد ہونے کی علامت ہے۔ ہار گئے تو کیا ہوا؟

ایک زمانے میں آسٹریلیا کی ٹیم مسلسل طویل عرصہ جیتتی رہی، وہ سب سے بہتر تھی ، مگر کیا دوسروں نے میچ کھیلنا، مقابلہ کرنا اور جواب میں اگریشن دکھانا ہی بند کر دیا تھا؟ نہیں بلکہ ہر کوئی اپنے طور پر زور لگاتا، فائٹ کرتا تھا۔ پھر وہ وقت آیا کہ آسٹریلیا کی برتری ٹوٹ گئی، وہ ہارتی بھی رہتی ، جیت بھی جاتی ، مگر حساب تب برابری پر آ گیا تھا۔

ایسا انڈیا کے ساتھ بھی ہو گا، ان شااللہ۔ اپنی ٹیم کو سپورٹ بھی کریں، خواہ مخواہ تنقید کا نشانہ نہ بنائیں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں