تصور اور مصور

میں ”عالم دین” نہیں مکتب ِ”علم دین” کاطالبعلم ہوں لہٰذاء اگر میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وبارک وسلم کے مبارک موضوع پر اپنے جذبات واحساسات سپرد قرطاس کرتے ہوئے میں نکما اورناقص کوئی کمی بیشی کربیٹھوں تو اللہ ربّ العزت مجھے درگزر فرمائے کیونکہ اس کے سوا کوئی راقم کی نیت سے آگاہ نہیں۔اللہ ربّ العزت کے محبوب سے محبت اورنسبت نے راقم کی قسمت کو بھی بیش قیمت بنادیا۔یہ ہماری انفرادی اور اجتماعی خوش قسمتی ہے جوہم تاجدار انبیاء کے اُمتی ہیں۔اِس عہدپرفتن میں بھی جو اپنے صادق جذبوں کے ساتھ سرورکونین سیّدنا محمدصلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وبارک وسلم کی اتباع واطاعت کرتے اوران کے ساتھ محبت کادم بھرتے ہیں ان کادم غنیمت ہے۔ہمارے آقا نے دونوں جہانوں اوران کے خزانوں پر دسترس کے باوصف قرب الٰہی کی نیت سے” فقر” اختیارفرمایا اوراسے ہمارا” فخر”بنادیا۔ میدان محشر میں ہماری نجات کیلئے آپ ؐ کارات دیرتک نہ سونا اوربارگاہ الٰہی میں ہمارے حق میں دست دعادرازکرتے ہوئے رونا کسی احسان فراموش کے سواکوئی فراموش نہیں کرسکتا۔سیّدنامحمد صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وبارک وسلم کی سیرت پرکاربندہوئے بغیر ان کی صورت سے محبت کا دعویٰ سچا نہیں۔میں ہراُس خوش نصیب شخص سے ملتمس ہوں جس کانام” محمد”سے شروع ہوتا ہے، اُس کا” اِسم محمد”سے پہلے اپنی قوم(ملک،چوہدری،رانا…) لکھنا ہرگز جائز نہیں۔ کوئی غلا م اپنے آقا کی پاک بارگاہ میں درودوسلام کانذرانہ پیش کرتے وقت آپ کیلئے "تیرا،تمہارا،تو،تجھے”ان الفاظ کااستعمال ہرگزنہ کرے کیونکہ باادب با مراداوربے ادب بے مرادہوتا ہے۔ جن سے محبت ہواُن کی دل وجان سے عزت کرنا ہمارا فرض اورہم پرقرض ہے۔نمازجمعہ کے بعدسلام کے مخصوص کلام میں جہاں جہاں "لاکھوں ” آتا ہے اسے” کھربوں ” پڑھا کریں،ایسا کرنا آپ کیلئے زیادہ منفعت بخش ہوگا۔

اللہ ربّ العزت کی ذات سے اُس وقت انتہائی مقدس محبت کی ابتدا ہوئی جس وقت معبود برحق نے اپنے بے مثل محبوب بارے تخیل کے بعد انہیں اپنے نور سے تخلیق فرمایا،اپنامقرب بنایااوراِسم” احمد”سے پکارا۔ حضرت سیّدنا محمدصلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وبارک وسلم بشر کی صورت ولادت سے قبل نور کی صورت میں بے شمار برسوں تک اللہ ربّ العزت کی حمدوثناء کرتے رہے جبکہ معبود برحق بھی اپنے محبوب کے نور کوبشر کاروپ دینے اور دنیا میں اس کے ظہور تک سرورِکونین کاذکرمسلسل بلندکرتارہااورہنوز کررہا ہے اورسحرقیامت تک کرتا رہے گا۔سرورِکونین کو اِسم” احمد” ان کی طرف سے اپنے معبود برحق کی اَن گنت برسوں تک حمدوثناء بیان کرنے پردیا گیاتھاجبکہ ربّ ذوالجلال نے اپنے محبوب کی وِلادت کے بعد زمین پراُن کیلئے اِسم محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وبارک وسلم) پسند فرمایا۔اِسم”احمد” کامعنی ہے جو بہت زیادہ تعریف کرتا ہوجبکہ اِسم "محمد”یعنی جس کی بہت تعریف کی گئی ہو،” حمد "کے شروع میں ” م” لگادیں تویہ اِسم” محمد”بن جاتا ہے۔محبت اورعزت میں بہت گہرارشتہ ہے، اللہ ربّ العزت نے اپنے محبوب کو بے پایاں رفعتوں، عزتوں،عظمتوں اوربلندیوں سے نوازتے ہوئے اپنے بندوں کے قلوب کوسرورکونین کی نایاب محبت سے سیراب،سرفراز اور مسخر کردیا۔انسان اپنے محبوب کے ساتھ کسی کوشریک کرنا برداشت نہیں کرتالیکن یہ اللہ پاک کاانسانیت پربہت بڑااحسان ہے جواُس نے ہمیں اپنے محبوب کامحب بنادیا۔سرورکونین امام الانبیاء اورخاتم الانبیاء کی ولادت سے قبل ان کی والدہ ماجدہ کوہررات خواب میں کوئی نہ کوئی پیغمبر ؑ مبارکباد پیش کیا کرتے تھے۔جب سرورِ کونین سیّدنا محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وبارک وسلم کی ولادت ہوئی تواللہ ربّ العزت نے اپنے شایان شان خوشی مناتے ہوئے زمین پر ان ماؤں کو بھی بیٹوں سے نوازدیا جواُمید سے تھیں،اللہ تعالیٰ کی مشیت سے اس رات ایک نورظاہر ہوا جس نے خانہ کعبہ سمیت عرب کے طول وارض کوروشن کردیا۔

آپ ؐ کی ولادت کے سلسلہ میں بے شمارمعجزات سمیت روایات تاریخ کاحصہ ہیں،اُس روز کسریٰ کاقصر لرز اٹھا تھا اور اس کے چودہ کنگر ے زمین بوس ہوئے تھے جبکہ اچانک وہ ساوہ دریا بھی سوکھ گیا جو اہل فارس کے نزدیک بہت مقدس سمجھاجاتا تھا۔دوسری طرف فارس کامخصوص آتش کدہ بھی بجھ گیا جو مسلسل ایک ہزار سال سے بجھے بغیر جل رہا تھا۔ان معجزات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں اورشادمانیاں پنہاں ہیں، تاہم عشاق ان مناظر کودیکھنے کیلئے اپنی” بصارت” نہیں "بصیرت” کااستعمال کرتے ہیں۔اِنسان کی دانش معجزہ معراج کو مانے یانہ مانے لیکن ایک سچا عاشق پورے ایقان سے اس پرایمان رکھتا ہے۔یادرکھیں عشق کے اپنے راستے اورضابطے ہیں، جس کوعشق بارے کوئی” سوجھ بوجھ” نہیں اس کیلئے یہ "بوجھ” ہے لیکن جو اس کی رمزوں کوسمجھتا ہے اس کیلئے "دُھول” سے بھی "پھول” پیدا ہوتے ہیں۔عہدحاضر میں جو عشق کرناچاہتا ہو وہ اس کیلئے سراپاعشق حضرت اویس ؓ کی سنت کادامن تھام سکتا ہے، حضرت اویس ؓ آج بھی مسلک عشق کے اِمام ہیں۔وہ عشق رسول اللہ ؐ کے میدان اورامتحان میں آج بھی فرسٹ پوزیشن پربراجمان ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ، حضرت عمرفاروق ؓ،حضرت عثمان غنی ؓ اورحضرت علی المرتضیٰ ؓ کے ہوتے ہوئے اگر سرورکونین سیّدنامحمد صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وبارک وسلم نے حضرت عمر فاروق ؓ اورباب العلم حضرت علی المرتضیٰ ؓ کے ہاتھ حضرت اویس قرنیؓ کیلئے اپنا جبہ مبارک اور اپنی امت کی بخشش کیلئے خصوصی دعا کاپیغام بھجوایا تواس میں ایساکوئی راز نہیں جوہمیں سجھ نہ آئے، رسول اللہ ؐ نے ہمیں اپنے سچے عاشق کامقام،انعام اوراکرام بتادیا۔یمن کے مقام قرن اورمراد قبیلے میں پیداہونے اوراپنی تنہاماں کی انتھک خدمت اوراطاعت کرنیوالے زاہد وعابداورمحدث حضرت اویس بن عامرؓ نے جب اپنے محبوب سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وبارک وسلم کے دودندان مبارک شہید ہونے کاسنا تویہ سوچ کر باری باری اپنے تمام دانتوں کوتوڑ دیاشاید تاجدارانبیاء کایہ مبارک دانت شہید ہوا،شایدیہ نہیں یہ شہید ہوا ہولیکن جوصحابیٰ دندان شہید ہونے کے عینی شاہد تھے ان میں سے کسی نے عشق میں اس شدت اورعقیدت کامظاہرہ نہیں کیا جس کی سعادت مشیت الٰہی سے حضرت اویس قرنیؓ کو نصیب ہوئی۔ امیرالمومنین حضرت علی المرتضیٰ ؓ کی قیادت اورحمایت میں جہاد کرتے ہوئے جنگ صفین میں ان خیرالتابعین عالی مرتبت سرفروش نے جام شہادت نوش کیاتھا۔

یادرکھیں جس طرح دنیا جہاں کے شیاطین،جنات اورملعون مشرک ایک دوسرے کے کندھوں پرسوار ہوکر بھی آسمان کونہیں چھوسکتے اس طرح اللہ ربّ العزت نے اپنے محبوب سرورکونین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآللہ واصحبہٰ وبارک وسلم کے مقام کاپرچم جس اہتمام اوراستحکام کے ساتھ بلندترکردیا ہے اب اسے کوئی سرنگوں نہیں کرسکتا لہٰذاء کسی ملعون کی مذموم ہرزہ سرائی کی صورت میں اس مذموم واقعہ کو”ناموس رسالت پرحملے کی ناکام جسارت ” کہاکریں اورکسی ملعون منحوس کے مخصوص گستاخانہ الفاظ ہرگز نہ دہرایاکریں۔حضرت آدم ؑ سے حضرت عیسیٰ ؑ تک سبھی انبیاء اپنی اپنی امت کوتوحید پرستی کادرس دینے کے ساتھ ساتھ آمدسیّدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نویدسناتے اوران کی اطاعت کی نصیحت کرتے رہے۔جس طرح کسی شہنشاہ کی آمد کے وقت ایک مخصوص انداز میں شرکاء کو تعظیم کیلئے تیار، خبردار اورہوشیار کیاجاتا ہے اس طر ح حضرت آدم ؑ سے حضرت عیسیٰ ؑ تک سبھی پیغمبر اپنے اپنے ادوارمیں شہنشاہوں کے شہنشاہ تاجدارانبیاء،امام الانبیاء اورخاتم الانبیاء کے اوصاف حمیدہ بیان کرتے اوران کی تشریف آوری کا مژداسناتے رہے ہیں۔اللہ ربّ العزت ارشاد فرماتا ہے،اگرمیں نے اپنے محبوب کوظاہر نہ کرناہوتاتومیں کبھی اپنا آپ ظاہرنہ کرتا سو نعوذباللہ اگرسیّدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وبارک وسلم نہ ہوتے تو ہم سے کوئی بھی نہ ہوتا۔اللہ تعالیٰ اپنی اعلیٰ صفات کے اعتبارسے بردبار اور بہترین مصور بھی ہے سواس نے اپنے شایان شان اوراپنے محبوب کی مرضی ومنشاء سے انہیں بینظیر صورت اورسیرت سے نوازا جبکہ ان کاحسن سترپردوں میں چھپادیا،عرش اورفرش کے” ستر”میں زمین آسمان کافرق ہے۔سورج،چاند، تارے،ہرایک کہکشاں، کائنات،سرسبز کھیت اورپھول نعلین پاک کی دھول کے برابر بھی نہیں ہیں۔

فطرت کے مناظر اور مظاہر سے قدرت کا حسن جھلکتا ہے۔حسن یوسف ؑ بارے گمان کریں اورپھر چشم تصور سے دیکھیں اس قادر وکارساز مصور نے اپنے محبوب کو کس قدر حسین بنایاہوگا، وہ کس قدر باجمال اور باکمال ہوں گے۔پندرہ سوسال سے ہرزمانہ انہیں بن دیکھے ان کادیوانہ ہے۔

حسن یوسف پہ کٹیں مصر میں انگشتِ زناں
سر کٹاتے ہیں تیرےﷺ نام پہ مردانِ عرب

راقم اپنے گمان،ایقان اورایمان کی روسے اللہ عزوجل کوبھی عاشق رسول سمجھتاہے لہٰذاء عاشق رسول بننا ہرگزآسان نہیں۔یارِغار حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ،اِسلامی فتوحات اوراصلاحات کے روح رواں حضرت عمر فاروق ؓ،اِمام سخاوت حضرت عثمان غنی ؓ،باب العلم حضرت علی المرتضیٰ ؓ،حضرت اویس قرنی ؓ،موذنِ اِسلام حضرت بلال ؓ اور علم دین شہیدؒ نے اپنے اپنے قابل رشک کردار سے عشق رسول کا جو بلندترین معیار مقررکیاہے اس پرہرکوئی پورا نہیں اترسکتا۔راقم کے نزدیک عہد حاضر میں ہرغلام کا ایک دوسرے کوعاشق رسول کہنا جائز نہیں کیونکہ یہ مقام بہت بلند ہے جبکہ ہم بہت پست ہیں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں