قطب اور کتب

میں جس وقت کالم لکھتا ہوں توکئی موضوعات مجھے جھنجوڑتے اور اپنی طرف کھینچتے ہیں لہٰذاء متعدد ایشوز میں سے کسی ایک موضوع کاانتخاب کرنا آسان نہیں ہوتا۔میں سمجھتا ہوں روزانہ کالم لکھنا اپنے قاری اورخود پرستم ہے، اسلئے کئی موضوعات پیچھے چھوٹ جاتے ہیں۔پنجاب کے حکمرانوں کویقینا”کالیاں اگے ٹوئے”کامحاورہ یاد نہیں۔میں ان کی خودپسندی اور شہرت پسندی کوتوسمجھ سکتاہوں لیکن ہرکام میں ان کی عجلت پسندی ناقابل فہم ہے۔ابھی ان کاایک کام پایہ تکمیل تک نہیں پہنچتا تویہ دوسرا شروع کردیتے ہیں،یہ طرزِ حکومت محض اشتہارات یعنی شہرت کیلئے ہے۔بیمارمحکموں کوبحال اورفعال کرنے کی بجائے ان کی بانجھ کوکھ سے نئے محکمے پیداکرنا معاشرت اورمعیشت دونوں پربوجھ ہے۔پنجاب میں قائدانہ اور انتظامی بحران مشاورت کے فقدان کاشاخسانہ ہے۔خاتون وزیراعلیٰ کوچندخواتین وزراء کے حصار میں رہناپسند ہے،انہیں بھی” ناں ” سننے کی عادت نہیں۔سنجیدہ حکمران عوام کیلئے آسانیاں پیداکرتے ہیں لیکن اگر پنجاب حکومت کی من مانیاں اورنادانیاں بدستور جاری رہیں توعام آدمی کی محرومیاں اسے زندگی سے بری طرح مایوس کردیں گی۔پنجاب حکومت کا” اصلاحات” کی بجائے” اشتہارات” پر زورہے۔جہاں ” ون مین” یا”ون وومن” شوہووہاں اجتماعی لیاقت سے استفادہ نہیں کیاجاتا۔پنجاب میں ہرروزدلخراش مناظر دیکھنے کوملتے ہیں، ایک طرف تخت لاہور کے حکمران اپنی اشتہاری مہم میں عوام کوکاروبار کیلئے آسان شرطوں پرقرض دینے کامژداسنا رہے ہیں تودوسری طرف عام آدمی کے کامیاب کاروبار پرشب خون ماراجارہا ہے۔ اگر حکمرانوں کو وی آئی پی کلچر کے نام پرشاہراہوں کی بندش، شاہراہوں پر اپنا شعبدہ بازی سے بھرپور شولگانے اور سوشل میڈیا پراپناسیاسی منجن بیچنے کا حق حاصل ہے تو کسی ریڑھی بان کواپنے اہل خانہ کی بنیادی اورمعاشی ضروریات کیلئے شاہراہوں پرفروٹ سمیت مختلف سامان فروخت کرنے کی اجازت کیوں نہیں۔انسانوں کے بغیر ریاست کاکوئی وجود نہیں،جہاں عوام کی طعام وقیام اورادویات سمیت بنیادی ضروریات پوری نہ ہوں وہاں قوانین معطل یا تبدیل ہوجاتے ہیں جس طرح امیرالمومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے عہدخلافت میں قحط پڑنے پرچوری کی حد معطل کرتے ہوئے کسی چورکوسزادینے والے کوتوال کو سزا دی تھی۔

جوریاست شہریوں کوان کے بنیادی حقوق فراہم نہ کرے وہ ان کاحق روزگار نہیں چھین سکتی،حکومت ریڑھی بانوں کی بجائے بدعنوانوں اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث عناصر کیخلاف کریک ڈاؤن کرے۔اگر کسی شاہراہ پرریڑھی لگانا گناہ ہے تو پھربھی ریڑھی توڑناجائز نہیں،جس طرح دوران ڈرائیونگ سگنل توڑ نا قانون شکنی ہے لیکن شہریوں کی گاڑیاں چکناچور نہیں کی جاتیں اس طرح قانون شکنی پرریڑھی توڑنا یارانگ پارکنگ پر گاڑی کے چاروں ٹائرپنکچر کرنابھی اس سے بڑی قانون شکنی ہے۔انتظامیہ کسی ریڑھی بان کافروٹ عارضی طورپر اپنے قبضہ میں لے سکتی ہے لیکن نیازسمجھ کر شہریوں میں بانٹ نہیں سکتی۔جس طرح دین فطرت اسلام میں خودکشی جائزنہیں اس طرح ہمارے قانون کی روسے بھی ا قدام خودکشی کرنیوالے قابل گرفت ہیں ورنہ ہمارے ہاں روزانہ ہزاروں خودکشی کے واقعات رپورٹ ہوتے۔زندہ رہنا ہرانسان کافطری حق ہے جوکوئی حکومت نہیں چھین سکتی جبکہ زندگی کی بنیادی ضروریات کیلئے انہیں تجارت یاملازمت کرنے سے نہیں روکا جاسکتا۔ہرکسی کو” معاش” کیلئے” بدمعاش” بنناپسند نہیں لہٰذاء جس کاجہاں جائز روزگار لگا ہوا ہے اسے چھیڑنے کی بجائے اس کاپیچھا چھوڑدیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا،اگردریائے فرات کے کنارے کوئی کتابھی پیاسا مرگیا تو مجھ سے اس کے بارے میں پوچھاجاسکتا ہے”، لہٰذاء ہمارے ارباب اقتدار واختیار انسانوں سے روزگار چھین کرانہیں بھوک کی آگ میں نہیں جھونک سکتے۔ٹھنڈے دفاترمیں بیٹھے نازک مزاج بابو دوسروں کی زندگیاں جہنم بنانے سے گریزکریں۔

سرورکونین سیّدنامحمدرسول اللہ خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وبارک وسلم اپنی ظاہری حیات میں بظاہرکسی مادرعلمی میں نہیں گئے لیکن پھر بھی سارے جہانوں کے علوم ان کے دسترس میں تھے۔ قرآن مجید کی روشن آیات اورسیّدناحضرت محمدرسول اللہ ؐ کی تعلیمات کے ہوتے ہوئے اگرمسلمانوں میں سے کوئی کامیابی کیلئے کسی نام نہاد موٹیویشنل مقرر کی باتوں پرکان دھرتا ہے تواسے عہدحاضر کاابوجہل کہنا بیجا نہیں ہوگا، موٹیویشنل مقرر محض اپنی لفاظی کے بل پراپنا منجن بیچتے اوراپنے خطابات کی اچھی قیمت وصول کررہے ہیں۔ اللہ ربّ العزت کے قرآن مجید کو مدتوں غلاف میں بندرکھنا لیکن دنیا دارآتھرزکی ہزاروں کتب گھول کر پی جانااورپھرکامیابی کاخواب دیکھنا سراب کے سوا کچھ نہیں۔دنیا کے علوم بھی ضرورسیکھیں لیکن دین سیکھے بغیر ہماری زندگی میں سکھ نہیں آئے گا۔”قطب”کو بھی ” کتب” پڑ ھ کریہ منفرد مقام نہیں ملتا۔جو قرب الٰہی کی نیت سے یاد ا لٰہی میں غرق ہوکر اپنی انا کو فنا کردے وہ قطب بنتا ہے۔ قیام پاکستان سے اب تک مطالعہ اورمشاہدہ کی بنیاد پرعالم دین آ تے اوردنیا سے جاتے رہے لیکن کسی” عالم دین” کو “علم دین” سے زیادہ عزت نہیں ملی۔عالم دین بننا آسان ہے لیکن ہرکوئی علم دین نہیں بن سکتا۔زیادہ کتب کامطالعہ اورمقابلے کاامتحان پاس کرنا ہرگز دانائی اورکامیابی کا معیار نہیں،جوعلم انسان کوانسانیت سے دور اوراخلاقیات سے محروم کردے اس سے ان پڑھ ہونا بہتر ہے۔”ان پڑھ”یا میٹرک پاس پھربھی قدرت اورقانون کی گرفت سے ڈر جاتے ہیں لیکن بڑی ڈگریوں،بڑی توندوں اوربڑی تجوریوں والے” اَن پاڑ ” اپنے اختیارات کے زعم میں قانون کی دھجیاں بکھیرنے،دوسرو ں کے حقوق غصب کرنے اورقومی وسائل میں نقب لگانے سے نہیں ڈرتے۔عام آدمی کی معاشرت اورمعیشت کے فیصلے وہ کرتا ہے جوخود دھونس دھاندلی سے اقتدارمیں آتاہے اورجس نے زندگی بھر بھوک نامی بھوت نہیں دیکھا ہوتا۔ حکمران اشرافیہ کیا جانے بھوک کس آدم خور بھوت کانام ہے،مفلسی اوراحساس محرومی کے مارے لوگ زندگی کیلئے کس طرح ایڑیاں رگڑتے ہیں۔کوئی حکمران نہیں جانتا، ایک عام آدمی اپنے بیوی بچوں کی کفالت کیلئے اپنے ایمان کے سوا اپنا کیا کچھ بیچتا ہے۔کیا پاکستان میں ناخواندگی اورپسماندگی کیلئے ریڑھی بان جوابدہ ہیں۔اس ملک میں ریڑھی فروشوں کیخلاف نہیں ضمیرفروشوں کیخلاف آپریشن ناگزیر ہے۔

ہم گلے سڑے آم یاسیب توفوری شاپر سے نکال دیتے ہیں لیکن ہم نے گلی سڑی سیاسی قیادت کوپچھلی چاردہائیوں سے اپنے سروں پراٹھایا ہوا ہے،جوانتخابات میں ووٹوں کیلئے ہمارے” خادم” لیکن کامیابی کے بعد “آقا”بن جاتے ہیں۔ منڈی میں قربانی کے جانوروں کی چال تک د یکھی جاتی ہے لیکن ہم ووٹ دیتے وقت امیدواروں کا چال چلن نہیں دیکھتے،یہ” امیدوار” بعدازاں ہماری کسی ” امید “پرپورانہیں اترتے۔راقم کامشاہدہ ہے،معمولی تعلیم والے معمولی جبکہ زیادہ تعلیم یافتہ زیادہ کرپشن کرتے ہیں۔اچھا علم انسان کوحلیم بناتا ہے،علم سے ہم تکبر نہیں تدبرکرناسیکھتے ہیں۔اگرہماری” ڈگریاں ” ہمیں “ڈگر” سے ہٹادیں تواس سے بڑاکوئی بحران اورہم سے زیادہ کوئی نادان نہیں۔ہمارا ریاستی نظام نام نہاد آفیسرز کو”خادم” کی بجائے” مخدوم” بنارہا ہے،ان میں سے زیادہ ترمحض اپنی “کلاس “تبدیل کرنے کیلئے یونیورسٹی میں بڑی ” کلاس” تک جاتے ہیں۔مخصوص افراد کاخیال ہے اگر اشرافیہ کی محفل میں ان کے ہاتھوں میں ” گلاس” نہ ہو تووہ اعلیٰ “کلاس ” میں شمار نہیں ہوں گے۔ہماری بے رحم” افسر شاہی” کودیکھیں تو” سکھاشاہی “کاسیاہ دور یادآجاتا ہے۔ تم عوام کی “خدمت” نہیں ان پر”حکومت” کرنے کیلئے بنے ہو، دوران تربیت آفیسرز کو یہ باورکروایا جاتا ہے۔ہمارے ہاں کچھ “سرکاری” ملازم خود”سرکار” بن جاتے ہیں۔ ایک سرکاری طبقہ چند گھنٹوں کیلئے” کام کاج” کرتا ہے جبکہ ہمارے بااختیار بابو”راج” کرتے ہیں۔ بااختیاربابو ” تن من” سے ڈھیروں ” دھن” بناتے اورپھراپنے پسماندگان کیلئے چھوڑجاتے ہیں۔ جوریاست عام آدمی کو بنیادی ضروریات اورجدیدشہری سہولیات کی فراہمی یقینی نہیں بناسکتی،وہ اسے اپنے قانون کے ہنٹر سے نہیں مارسکتی۔اگرریاست کے پاس عام آدمی کیلئے باعزت روزگار نہیں توپھر ریڑھی بان یاچنگ چی رکشہ مالکان کو آپریشن کے نام پر انتقام کانشانہ بناناایک فلاحی ریاست کے تصور پرپورا نہیں اترتا۔ انسانوں کے بغیر ریاست،معاشرت اورمعیشت کا کوئی وجود نہیں،اگراللہ تعالیٰ کے بنائے قوانین بارے اجتہاد کیاجاسکتا ہے توانسانوں کیلئے انسان کے بنائے قوانین میں ترمیم کیوں نہیں کی جاسکتی۔یادرکھیں شہروں کا وجوداورحسن شاہراہوں نہیں شہریوں کے دم سے ہے،کیا ہمارا حکمران طبقہ شہریوں سے روزگاراورسامان روزگار چھین کر اپنے شہروں کو”غزہ “بنانااوران میں ” غدر” کاماحول دیکھناچاہتا ہے۔جولوگ اپنے دم پراپنی اوراپنوں کی بنیادی ضروریات پوری کررہے ہیں ان سے روزگار چھین کرانہیں مجرمانہ سرگرمیوں کی بندگلی میں کیوں دھکا دیاجارہا ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں