کیا دانتوں کی صحت گردوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے؟

ایک حالیہ طبی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ، دانتوں کی خرابی اور گردوں کے دائمی امراض کے درمیان گہرا تعلق ہو سکتا ہے۔

طبی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق، جن افراد کے دانتوں کی تعداد کم ہے، خاص طور پر وہ لوگ جن کے منہ میں 20 سے کم دانت ہیں، ان میں گردوں کے دائمی مرض (Chronic Kidney Disease یا CKD) لاحق ہونے کا خطرہ زیادہ پایا گیا ہے۔

یہ تحقیق جنوبی کوریا کی چونام نیشنل یونیورسٹی کے ماہرین نے کی، جس میں 40 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کے طبی اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ، جن لوگوں کے منہ میں دانتوں کی تعداد کم تھی، ان میں گردے کی بیماری کی شرح واضح طور پر بلند تھی۔

ماہرین نے اس نتیجے پر پہنچنے کے لیے عمر، جنس، تعلیمی پس منظر، آمدنی، تمباکو اور شراب نوشی کی عادات، جسمانی وزن، بلڈ پریشر، ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور دانتوں کی صفائی جیسے دیگر عوامل کو بھی مدنظر رکھا، لیکن اس کے باوجود دانتوں کی کمی اور گردے کی بیماری کے درمیان تعلق برقرار رہا۔

تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ، گردوں کے مریضوں کی مجموعی صحت بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ، ان کی منہ اور دانتوں کی صفائی اور دیکھ بھال کو بھی طبی منصوبہ بندی میں شامل کیا جائے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ، مستقبل میں مزید بڑی سطح پر تحقیق کی ضرورت ہے، تاکہ اس تعلق کو مزید گہرائی سے سمجھا جا سکے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں