بھارت کے نائب صدر اپنے عہدے سے مستعفی کیوں ہوئے؟

بھارت کے نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جس کے بعد سیاسی، صحافتی اور عوامی حلقوں میں چہ میگوئیاں جاری ہیں کہ آیا یہ فیصلہ واقعی صرف صحت کی خرابی کا نتیجہ ہے، یا اس کے پس پردہ کچھ اور عوامل بھی کارفرما ہیں۔

راشٹرپتی بھون کی جانب سے جاری ہونے والے مختصر بیان کے مطابق جگدیپ دھنکھڑ نے ڈاکٹروں کے مشورے کے تحت نائب صدارت کے منصب سے علیحدگی اختیار کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی صحت کو ترجیح دینا چاہتے ہیں اور اسی بنا پر فوری استعفیٰ دے رہے ہیں۔ صدر دُروپدی مورمو نے ان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔

تاہم، بھارت کی اپوزیشن جماعتیں اس بیان کو محض رسمی قرار دے رہی ہیں۔ کانگریس کے رہنما جیرام ریمیش نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ استعفیٰ کی اصل وجوہات کہیں زیادہ گہری اور سنجیدہ نوعیت کی ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ دنوں میں نائب صدر اور حکومت کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو چکے تھے، اور راجیہ سبھا کے چیئرمین کی حیثیت سے دھنکھڑ کے بعض فیصلے حکومتی پالیسی کے برخلاف تصور کیے جا رہے تھے۔

پارلیمنٹ کی بزنس ایڈوائزری کمیٹی کی حالیہ میٹنگ، جس میں حکمران جماعت کے اہم وزرا غیر حاضر رہے، بظاہر اسی کشیدگی کا مظہر تھی۔ جگدیپ دھنکھڑ نے اس اجلاس کو احتجاجاً ملتوی کر دیا تھا۔ بعض سیاسی مبصرین کے مطابق یہی وہ لمحہ تھا جب دونوں جانب سے تعلقات کا شیرازہ بکھرنا شروع ہوا۔

جگدیپ دھنکھڑ نے اپنی مدت کے دوران کئی بار سپریم کورٹ اور عدالتی نظام پر تنقید کی۔ کالجیم سسٹم کو انہوں نے غیر جمہوری اور غیر شفاف قرار دیا تھا۔ ان کے بیانات نے نہ صرف عدالتی حلقوں بلکہ سیاسی حلقوں میں بھی ہلچل مچائی تھی۔ ان کا انداز حکومتی بیانیے سے میل کھاتا تھا، مگر حالیہ دنوں میں ان کے لہجے میں جو خودمختاری محسوس کی گئی، وہ بعض حلقوں کو ناگوار گزری۔

این ڈی ٹی وی، انڈیا ٹوڈے اور اکنامک ٹائمز سمیت کئی معتبر بھارتی ذرائع ابلاغ نے امکان ظاہر کیا ہے کہ جگدیپ دھنکھڑ کو استعفیٰ پر آمادہ کرنے میں حکومتی دباؤ کا کردار بھی ہو سکتا ہے۔ بعض رپورٹس یہاں تک اشارہ کرتی ہیں کہ اگر وہ خود مستعفی نہ ہوتے تو ان کے خلاف ایوان بالا میں عدم اعتماد کی تحریک لائی جا سکتی تھی۔

کانگریس رہنما جیرام ریمیش نے ایک بیان میں یہ بھی کہا کہ جن لوگوں نے جگدیپ دھنکھڑ کو اس منصب تک پہنچایا، وہی آج ان کے رویے سے نالاں دکھائی دیتے ہیں۔ یہ جملہ استعفے کے سیاسی پس منظر کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔

اگرچہ سرکاری بیان میں صحت کو مرکزی سبب قرار دیا گیا ہے، لیکن ملک کی سیاست میں جس تیزی سے اتار چڑھاؤ آ رہا ہے، اس تناظر میں محض طبی بنیادوں پر اس غیر متوقع استعفے کو قبول کرنا آسان نہیں۔ جگدیپ دھنکھڑ کا کردار محض رسمی نہیں بلکہ ایک سرگرم اور بعض اوقات متنازع نائب صدر کا رہا، جنہوں نے آئینی اداروں، عدلیہ اور پارلیمان کے دائرہ کار پر کھل کر رائے دی۔

یہ استعفیٰ محض ایک شخص کا انخلاء نہیں بلکہ بھارت کے ادارہ جاتی نظام میں طاقت کے توازن، اظہارِ رائے کی حدود اور سیاسی وفاداریوں کے بدلتے زاویوں کا بھی غماز ہے۔ اس فیصلے نے مستقبل کی سیاست، بالخصوص ایوانِ بالا کی حکمت عملی، اور نائب صدارت کے منصب کی آئندہ حیثیت کے بارے میں کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں