بھارت کی وزارت داخلہ نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت من کے وزیراعظم نریندر مودی کے بیرونی دوروں پر تنقیدی بیان کو ’غیر ذمہ دارانہ اور افسوسناک‘ قرار دیا ہے۔
بھگونت من نے حالیہ بیان میں الزام لگایا تھا کہ، وزیراعظم کو بیرون ملک جانے کا وقت تو مل جاتا ہے، مگر وہ بھارت کی ایک ارب 40 کروڑ عوام کے مسائل سننے اور ان کے خدشات دور کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب وزیراعظم مودی افریقی اور لاطینی امریکی ممالک،گھانا، ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو، ارجنٹائن، برازیل اور نمیبیا،کے سرکاری دورے مکمل کر کے وطن واپس پہنچے ہیں۔
بھگونت من کے ریمارکس پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے ان پر طنز کیا کہ، وہ وزیر اعلیٰ کے منصب پر براجمان ہونے کے باوجود اب بھی ‘کامیڈین’ جیسا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ بی جے پی نے یہاں تک مطالبہ کیا کہ، بھگونت من کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
بی جے پی اور وزارت داخلہ کے ردعمل کے بعد، بھگونت من نے پنجاب اسمبلی میں دوبارہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ، بطور وزیر اعلیٰ انہیں وزیراعظم کی خارجہ پالیسی پر سوال اٹھانے کا پورا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہاکہ،وزیراعظم کن ممالک کے دورے کرتے ہیں اور کیا وہ بعد میں ہمارے کسی کام آتے ہیں؟ جب پاکستان سے تعلقات خراب ہوئے، کیا کسی بھی ملک نے ہماری مدد کی؟ اگر نہیں، تو پھر پوری دنیا کے چکر لگانے کا فائدہ کیا ہے؟
یاد رہے کہ، بھگونت من سے قبل کانگریس بھی وزیراعظم مودی کے متعدد غیر ملکی دوروں پر سوالات اٹھا چکی ہے، جن میں ان دوروں کے اخراجات، سفارتی نتائج اور ان کے ملکی مفادات پر اثرات شامل ہیں۔