غزہ کی پٹی میں جاری جنگ اور تباہ حال معیشت نے کیش کو ایک نایاب خزانے میں بدل دیا ہے۔ خوراک، ایندھن اور دوا کی طرح نقد رقم بھی یہاں زندگی کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے لیکن اس کی دستیابی نہ ہونے کے برابر ہے۔
غزہ کے بیشتر بینک بند ہو چکے ہیں، اے ٹی ایم مشینیں ناکارہ پڑی ہیں، اور بینک نوٹ اتنے پرانے ہو چکے ہیں کہ تاجر انہیں قبول کرنے سے انکار کرنے لگے ہیں۔ اس خلا کو بھرنے کے لیے اب ایک نیا غیر رسمی نظام اُبھر آیا ہے ۔ طاقتور ’کیش بروکرز‘ کا نیٹ ورک، جو شہریوں کو ان کی اپنی رقم کا آدھا حصہ کیش میں دے رہا ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق جنہیں فوری نقد رقم کی ضرورت ہوتی ہے، وہ آن لائن کسی بروکر کو 100 ڈالر ٹرانسفر کرتے ہیں اور بدلے میں صرف 60 یا اس سے بھی کم رقم وصول کرتے ہیں۔ کچھ صورتوں میں تو 40 فیصد تک کٹوتی کی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ غزہ میں جو کیش دستیاب ہے وہ اس قدر خستہ حال ہو چکا ہے کہ اسے ہاتھ میں پکڑنا بھی دشوار ہے۔ کئی دکاندار تو پرانے نوٹ لینے سے انکار کر دیتے ہیں، کیونکہ ان کے سپلائرز صرف نئے نوٹ قبول کرتے ہیں۔
ایک خاتون شہری شاہد اججور نے اے پی کو بتایا کہ انہوں نے 100 ڈالر ٹرانسفر کر کے کیش حاصل کیا، لیکن جب دکاندار کو وہ نوٹ دیے تو اس نے یہ کہہ کر سامان دینے سے انکار کر دیا کہ نوٹ خراب ہیں۔
چونکہ بینکوں سے رقوم نکالنا ممکن نہیں رہا، اس لیے عام لوگ اپنی بچت، زیورات اور قیمتی اشیاء بیچ کر کیش حاصل کر رہے ہیں۔ ایک کلو چینی کی قیمت 100 ڈالر تک جا پہنچی ہے، جبکہ آٹے کا تھیلا اب پرتعیش شے بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق، جنگ کے آغاز پر اسرائیل نے غزہ میں کیش کی ترسیل بند کر دی تاکہ حماس کی مالی سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔ اسی دوران امیر خاندان اپنی رقوم نکال کر غزہ سے نکل گئے۔ ساتھ ہی غیر ملکی سپلائرز نے بھی صرف نقد رقم میں ادائیگی کا مطالبہ شروع کر دیا۔
غزہ میں پائیدار مالیاتی نظام نہ ہونے کی وجہ سے اب یہ غیر رسمی کیش بروکرز ہی سب کچھ کنٹرول کر رہے ہیں ۔