اس میں کوئی شک نہیں کہ پیٹ کے گرد موجود چربی (توند) کو ختم کرنا اس انسان کو درپیش سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ہے جو اپنا جسم کو مثالی صورت میں ڈھالنا چاہتا ہو۔ تاہم ایک جدید طبی مطالعے نے اس سوچ کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔
انگریزی جریدے GeroScience کے مطابق مذکورہ تحقیق کے نتائج میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انسان کے اندرونی اعضاء کے گرد جمع ہونے والی چربی (visceral fat) دماغی صحت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
جاپان کی ٹوہو یونیورسٹی کے محققین کے اس مطالعے میں یہ بات بھی کہی گی ہے کہ پیٹ کی چربی معتدل صورت میں دماغ کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق visceral fat ایک پروٹین بناتی ہے جس کا نام CX3CL1ہے۔ یہ ہی وہ مادہ ہے جو BDNF پروٹین کی صحت بخش سطح کو برقرار رکھتا ہے۔ اسی طرح یہ یادداشت، سیکھنے کے عمل اور مزاج کو منظم رکھنے کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل شمار ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ سابقہ نتائج میں پیٹ پر اضافی چربی کو خطرناک سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ امراض قلب اور ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔
البتہ یہ یاد رہے کہ پیٹ کی چربی میں اعتدال دماغی صحت کے لیے ایک اہم چیز ہے۔