جنوری کے دوران پاکستان بھر میں 87 دہشت گرد حملے ہوئے، رپورٹ

دسمبر 2025 میں تشدد کے واقعات میں کمی کے بعد نئے سال کے پہلے مہینے میں پاکستان میں ریاست مخالف تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہےجس کے نتیجے میں دہشت گردوں، شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

اسلام آباد میں قائم انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کے مطابق جنوری 2026 میں پرتشدد کارروائیوں سے ہونے والی اموات میں دسمبر 2025 کے مقابلے میں 43 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق جنوری میں 242 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ 73 شہری اور 46 سیکیورٹی اہلکار جان سے گئے۔ اس دوران 12 دہشت گرد زخمی ہوئے، جبکہ کم از کم 71 شہری اور 52 سیکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری کے دوران ملک بھر میں 87 دہشت گرد حملے ہوئے، جو دسمبر میں ہونے والے 68 حملوں کے مقابلے میں 28 فیصد زیادہ ہیں۔ ان حملوں میں سے 38 خیبر پختونخوا کے مرکزی اضلاع، 20 قبائلی اضلاع اور دو پنجاب میں رپورٹ ہوئے۔

دہشت گردی اور سیکیورٹی کارروائیوں کے حوالے سے بلوچستان سب سے زیادہ متاثر صوبہ رہا، جہاں 2001 کے بعد جاری شدت پسندی کے موجودہ دور میں ایک ماہ کے دوران سب سے زیادہ دہشت گرد مارے گئے۔

اگرچہ مہینے کے بیشتر حصے میں صوبے میں نسبتاً امن رہا، تاہم آخری دو دنوں میں تشدد میں شدید اضافہ ہوا۔ ان دنوں کالعدمبلوچستان لبریشن آرمی نے کم از کم 12 مختلف مقامات پر بیک وقت حملے کیے، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر کارروائیاں کیں۔

جنوری میں کم از کم تین خودکش حملے ہوئے، جن میں سے دو بلوچستان میں ہوئے اور ان کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کی۔ صوبے میں مجموعی طور پر 172 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جن میں سے بیشتر آخری دو دنوں میں مارے گئے۔

پنجاب میں صرف دو دہشت گرد حملے رپورٹ ہوئے، تاہم سیکیورٹی اداروں نے لاہور، ساہیوال، پاکپتن اور میانوالی میں مشترکہ کارروائیاں کرتے ہوئے 53 مشتبہ دہشت گرد گرفتار کیے، جن میں سے 48 کا تعلق لاہور سے تھا۔ ماہرین کے مطابق ان گرفتاریوں سے شہر میں کسی بڑے دہشت گرد منصوبے کو ناکام بنایا گیا۔

جنوری کے دوران سندھ، آزاد کشمیر، اسلام آباد اور گلگت بلتستان سے کسی دہشت گرد حملے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں