بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے لیے اپنے 24ویں پروگرام کی منظوری دے دی ہے، لیکن اس کے مؤثر ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام بنیادی مسائل کو حل کیے بغیر صرف موجودہ قرضوں کی تجدید کرتا ہے۔ پروگرام میں بنیادی خسارے کا ہدف حاصل کرنے کے لیے جو اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں، وہ ریاستی بینک کے منافع کو شامل کرتے ہیں، جو حکومت کو دی گئی قرضوں سے حاصل ہوئے ہیں۔ اس پروگرام میں برآمدات اور زراعت کے شعبے کے ٹیکسوں میں تبدیلیوں کے لیے غیر حقیقت پسندانہ مطالبات کیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے کاروباری ماحول متاثر ہو رہا ہے۔
حکومتی اخراجات میں بے تحاشا اضافہ جاری ہے، جبکہ اداروں کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جس کے لیے کوئی واضح منصوبہ بندی موجود نہیں ہے۔ حکومت کی قیمتوں پر کنٹرول اور غیر مؤثر ضوابط نے معیشت کو مزید متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں بے یقینی بڑھ رہی ہے۔ آئی ایم ایف کے پروگرام میں شرح تبادلہ کی آزاد مارکیٹ کی ضمانت دی گئی ہے، لیکن ہر پروگرام کے نتیجے میں شرح تبادلہ میں اضافہ ہوا ہے، جو پاکستانی برآمدات کو کمزور کر رہا ہے۔ یہ مسائل پاکستانی معیشت کی ساختی خرابیوں کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔