چینی آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا

اس وقت آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر امریکی کمپنیوں کا تسلط ہے مگر چینی کمپنی ڈیپ سیک نے امریکا کو ٹکر دینے کی تیاری پکڑ لی ہے ، چینی کمپنی کی اے  آئی ٹیکنالوجی نے پہلے سے ہی دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا ہے ۔

دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کی دنیا مین کمپنی کے ڈیپ سیک آر 1 لارج لینگوئج ماڈل نے لوگوں کی توجہ مبذول کروا لی ہے اور تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہا ہے ۔

ماہرین کا ماننا ہے آر 1 ماڈل اگر اوپن اے آئی (چیٹ جی پی ٹی تیار کرنے والی کمپنی) کے01سے بہتر نہیں تو کسی صورت کم بھی نہیں ہے ، جو اس امریکی کمپنی کا دستیاب بہترین ماڈل ہے۔

سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ چینی کمپنی کا تیار کردہ اے آئی ماڈل تاحال بالکل مفت دستیاب ہے۔جبکہ چیٹ جی پی ٹی، گوگل جیمنائی اور مائیکرو سافٹ کو پائلٹ کے مختلف ورژنز دستیاب ہیں تاہم ان کے سب سے بنیادی ماڈلز کو ہی مفت استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ڈیپ سیک کمپنی یوزرز کو صرف ای میل ایڈریس کے ذریعے ہی سائن اپ ہونے کا موقع دیتی ہے ، جس کے بعد صارفین اس کے وی 3 اور آر 1 ماڈلز کو استعمال کرسکتے ہیں۔

کمپنی ویب سائٹ کے مطابق وی 3 نے inferenceاسپیڈ میں بھی اہم بریک تھرو حاصل کیا ہے اور یہ ابھی اوپن سورس اے آئی ماڈلز کے لیڈر بورڈ میں ٹاپ پر ہے۔

دوسری طرف آر 1 دیگر شعبوں میں بھی حیران کن حد تک بہتر کام کرتا ہے۔کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اگرچہ دیگر کمپنیوں کے اے آئی ماڈلز کے مفت ورژنز دستیاب ہیں لیکن آر 1 کی طرح پریمیئم فیچرز تک مفت رسائی نہیں دیتے۔

صارفین ڈیپ سیک کے آر 1 کے تمام فیچرز کو بالکل مفت استعمال کرسکتے ہیں تاہم شرط یہ ہے کہ صارف اسے ذاتی سطح پر ہی استعمال کرے کسی دوسری کمپنی کے لئے نہیں ۔

اپنی انہی خصوصیات کی بنا پر آر 1 نے حیران کن طور پر امریکا میں ایپل ایپ اسٹور پر چیٹ جی پی ٹی کی حکمرانی ختم کر دی ہے۔

کمپنی نے اپنا آر 1 ماڈل محض 56 لاکھ ڈالرز میں تیار کیا ہے ، اسی وجہ سے صارفین کو اس تک بالکل مفت رسائی دی جا رہی ہے ۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں