اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں ورلڈ بینک کے نائب صدر برائے جنوبی ایشیا مارٹن ریزر نے پاکستان کیلئے 10 سالہ فریم ورک کا باضابطہ اجراء کرتے ہوئے کہا کہ کنٹری پارنٹرشپ فریم ورک کے اہداف حاصل کرنے کیلئے مسلسل اور سخت محنت کرنا ہوگی۔
نائب صدر نے مزید کہا کہ چند ماہ یا ایک سے دو سال میں اہداف حاصل نہیں ہو سکیں گے ، نجی اور سرکاری شعبے کو دس سالہ حکمت عملی پر مکمل عمل کرنا ہوگا۔ اڑان پاکستان پروگرام کے تحت پائیدار ترقی کی بنیاد رکھنا خوش آئند ہے۔
عالمی بینک فریم ورک کے اہداف
عالمی بینک کے مطابق پاکستان شدید انسانی ترقی کے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، ہیومین کیپٹل انڈیکس میں پاکستان کا اسکور 100 میں سے 41 ہے جو کہ بہت کم ہے، پاکستان میں اب بھی 2 کروڑ 54 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، پانچ سے 16 سال کی عمر کے ہر تین میں سے ایک بچہ اسکول نہیں جاتا ۔ کورونا وبا اور سیلاب کے بعد 26 لاکھ مزید بچے تعلیم سے دور ہو گئے ۔
موسمیاتی تبدیلی کے باعث پاکستانی معیشت کو 2050 تک 9 فیصد نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، پاکستانی معیشت میں ریاست کا فٹ پرنٹ بہت زیادہ ہے، 200 سے زائد سرکاری ادارے ہیں، جن کی ویلیو جی ڈی پی کے 48 فیصد کے برابر ہے۔
سماجی تحفظ اور انسانی وسائل میں سرمایہ کاری سب سے اہم
2026سے 2035 کے دوران پاکستان کیلئے اہم سماجی و معاشی اہداف مقرر کر دئیے گئے ، عالمی بینک اگلے دس سال کے دوران پاکستان کو 20 ارب ڈالر کے فنڈز فراہم کرے گا جبکہ غربت، چائلڈ سٹنٹنگ میں کمی، موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے اہداف رکھے گئے ہیں ۔ کلین انرجی، بہتر ایئر کوالٹی اور عوامی شمولیت کے ذریعے پائیدار ترقی بھی اہداف کا حصہ ہے۔
نجی سرمایہ کاری، روزگار،تجارت میں اضافہ بھی بنیادی اہداف میں شامل کیا گیا ہے، تمام اہداف پانچ سے دس سال پر مشتمل ہوں گے۔
عالمی بینک کے مطابق پاکستانی معیشت بحران سے نکل رہی ہے، تاہم پاکستانی معیشت کو اب بھی سیاسی عدم استحکام سمیت متعدد خطرات کا سامنا ہے۔ حکومت نے مالیاتی ، توانائی اور کاروباری شعبوں میں اصلاحات متعارف کروائی گئی ہیں۔ تاہم ماضی کی ناکامیوں کی وجہ سے اعتماد کا فقدان پایا جاتا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق رواں مالی سال پاکستان کی معاشی ترقی 2.8 فیصد رہنے کا امکان ہے جبکہ اگلے سال 3.2 فیصد اور2027 میں معاشی شرح نمو 3.4 فیصد تک جانے کی بھی پیشگوئی کی گئی ہے۔
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق 2027تک پاکستان میں مہنگائی 8 فیصد کی سطح پر آ سکتی ہے، اس سال ٹیکس ٹوجی ڈی پی 10.9 فیصد اور اگلے سال 11 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے ۔ 2027 میں ٹیکس ٹوجی ڈی پی شرح 11.2 فیصد کی سطح پر جانے کا امکان ہے۔ دستاویز کے مطابق پاکستان کا قرض بلحاظ جی ڈی پی اس سال 73.8 فیصد اور اگلے سال 74.7 فیصد تک پہنچ جائے گا، 2027 تک قرضوں کی شرح بڑھ کر 75.2 فیصد تک جانے کا خدشہ ہے ۔