شمالی غزہ میں لوٹنے والے فلسطینیوں کی گاڑیوں کی نتساریم کوریڈور پر ایکس رے کے ذریعے تلاشی لی جا رہی ہے ۔
غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت شمالی غزہ لوٹنے والے فلسطینیوں کی گاڑیوں کو صرف شاہراہ صلاح الدین کے ذریعے ہی جانے کی اجازت دی گئی تھی ۔
شاہراہ صلاح الدین پر نتساریم کوریڈور پر ایک بڑا برقی دروازہ نصب کیا گیا ہے جہاں ایکسرے کے ذریعے شمالی غزہ لوٹنے والے فلسطینیوں کی گاڑیوں کی تلاشی لی جارہی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق مصری اور قطری اہلکاروں پر مشتمل کمیٹی اس گزرگاہ کا انتظام سنبھال رہی ہے جبکہ امریکی اہلکار بھی یہاں فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔
گزشتہ دنوں عرب میڈیا نے بتایا تھا کہ 2 پرائیویٹ امریکی کمپنیاں غزہ میں اپنے اہلکار تعینات کریں گی جو شمالی غزہ میں آنے والے فلسطینیوں کی واپسی کی نگرانی کریں گے۔
واضح رہے غزہ میں 15 ماہ سے جاری اسرائیلی جارحیت کے دوران اپنے گھروں سے بے دخل ہونے والے فلسطینی آج سے اپنے گھروں کو لوٹناشروع ہوگئے ہیں جو فلسطینی تاریخ میں اہم سنگ میل ہے۔
1948میں اسرائیل کے قیام کیلئے فلسطینیوں کو بڑے پیمانے پر ان علاقوں سے بے دخل کیا گیا تھا، فلسطینیوں کی اس بےدخلی کو “نکبہ”کہا جاتا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق “نکبہ” کے بعد پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ بے دخل فلسطینی اپنے علاقوں کو واپس لوٹے ہیں۔
جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی فوج نتساریم راہداری سے پیچھے ہٹ گئی ہے جسکے بعد جبری طور پر بے دخل کیے گئےلاکھوں فلسطینی شمالی غزہ واپس لوٹ رہے ہیں ۔