بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے بندھوگڑھ ٹائیگر ریزرو میں 48 گھنٹوں کے دوران 8 ہاتھیوں کی اچانک ہلاکت نے حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق، وائلڈ لائف حکام نے اطلاع دی ہے کہ 13 ہاتھیوں کے جھنڈ کی حالت غیر ہونے کی خبریں موصول ہوئیں۔
حکام کے مطابق، منگل تک 7 ہاتھنیاں دم توڑ چکی تھیں، جب کہ بدھ کو ایک اور کمزور حالت میں پایا جانے والا نر ہاتھی بھی انتقال کر گیا۔ مرنے والی ہتھنیاں تین سال کی عمر کی تھیں، جبکہ نر ہاتھی کی عمر 4 سے 5 سال تھی۔
وائلڈ لائف حکام کے مطابق جھنڈ کا دسواں ہاتھی علاج کے بعد بہتر ہو رہا ہے، جبکہ باقی تین ہاتھیوں کو انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔
محکمہ جنگلات نے تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی قائم کی ہے جو دس دن کے اندر رپورٹ پیش کرے گی۔ ابتدائی تحقیق میں اشارہ ملتا ہے کہ ہاتھیوں کی ہلاکت کی ممکنہ وجہ زہر ہے۔
حکام اس بات کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا ہاتھیوں نے کوڈو باجرے کے بیج کھائے تھے، جو خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ بیج کسی فنگس سے آلودہ ہوں تو ان میں سائکلوپیازونک ایسڈ نامی زہریلا مادہ پیدا ہوتا ہے، جو مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔
مزید تفتیش کے لیے جائے وقوعہ کے اطراف 100 کلو میٹر کے رقبے کا معائنہ کیا جا رہا ہے، جس میں کھیت اور آس پاس کے گھر بھی شامل ہیں۔