نیویارک کا نیا باب، ظہران ممدانی کی جیت، اسلاموفوبیا کی شکست اور Diversity کی فتح

نیویارک سٹی میں ظہران ممدانی کی بطور مئیر کامیابی نہ صرف ایک سیاسی واقعہ ہے بلکہ یہ امریکی سماج میں ایک نئی فکری تبدیلی کی علامت ہے، ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں Islamophobia کو مختلف شکلوں میں فروغ دیا جا رہا ہے، ایک مسلمان رہنما کا امریکا کے سب سے بڑے شہر کا سربراہ بننا یقیناً ایک Historic Moment ہے، یہ جیت اس تاثر کی نفی کرتی ہے کہ امریکی معاشرہ مذہبی بنیادوں پر تقسیم ہے، بلکہ اس نے ثابت کیا ہے کہ عوام اب نسل، مذہب یا رنگ کے بجائے Merit، Vision اور Service کو ترجیح دیتے ہیں. ظہران ممدانی کی کامیابی دراصل ان پالیسیوں اور بیانیوں کے خلاف عوامی فیصلہ ہے جنہوں نے طویل عرصے تک مسلمانوں کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور بیانات نے Islamophobia کو Institutional شکل دی تھی، چاہے وہ مسلمانوں کے سفری پابندیوں کا قانون ہو یا لندن کے میئر صادق خان کے خلاف ان کے Hate Speech، اسی سلسلے میں ظہران ممدانی کے حوالے سے بھی ٹرمپ کے طنزیہ تبصرے نے ایک بار پھر اس سوچ کو آشکار کیا کہ بعض حلقے آج بھی مسلمانوں کو امریکی سماج کا حصہ تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں، مگر اس بار عوام نے جواب Vote کے ذریعے دیا، Unity اور Tolerance کے ذریعے دیا۔ نیویارک، جو دنیا کی Cultural اور Intellectual Capital کہلاتا ہے، ہمیشہ Diversity اور Inclusiveness کی علامت رہا ہے، ظہران ممدانی کی جیت اسی وراثت کا تسلسل ہے، ان کی انتخابی مہم نے صرف مسلم ووٹ نہیں بلکہ مختلف Communities کو اکٹھا کیا، انہوں نے Poverty، Immigration، Racial Equality اور Social Justice جیسے بنیادی مسائل کو اپنی ترجیح بنایا، جو آج کے امریکا کی Real Need ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کی کامیابی کسی مذہبی یا نسلی جیت کے بجائے Humanity کی جیت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ امریکا میں Islamophobia ابھی ختم نہیں ہوا، مختلف Think Tanks اور Reports کے مطابق مسلمانوں کے خلاف Hate Crimes میں گزشتہ دہائی میں اضافہ ہوا ہے، تاہم ظہران ممدانی جیسے Leaders اس بیانیے کو بدل رہے ہیں، وہ نہ صرف امریکی سیاست میں مسلمانوں کی Representation کو مضبوط کر رہے ہیں بلکہ اسلام کے حقیقی چہرے، Peace، Tolerance اور Equality کو دنیا کے سامنے اجاگر کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر یہ کامیابی ایک Strong Message بھی ہے، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جہاں مغربی معاشروں کو Islam-Enemy قرار دیا جاتا ہے، ظہران ممدانی کی جیت بتاتی ہے کہ Democratic System میں تبدیلی ممکن ہے، بشرطیکہ قیادت بااصول، Educated اور عوامی خدمت کا جذبہ رکھنے والی ہو۔ امریکا میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی Political Participation جیسے الہان عمر، رشیدہ طلیب اور اب ظہران ممدانی کی کامیابیاں، اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ امریکی سیاست ایک New Era میں داخل ہو چکی ہے، وہ دور جہاں مذہب نہیں بلکہ Merit اور Vision فیصلہ کن کردار ادا کر رہا ہے۔ اختتامیہ کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ظہران ممدانی کی جیت صرف ایک شخص کی کامیابی نہیں بلکہ ایک فکری Revolution کا آغاز ہے، یہ جیت ثابت کرتی ہے کہ نفرت کے بیانیے خواہ کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں، جب عوام Awareness اور Justice کے ساتھ کھڑے ہوں تو ہر Bias شکست کھا جاتا ہے، نیویارک نے دنیا کو دکھا دیا کہ Islamophobia کے بیج امریکا کی زمین پر زیادہ دیر نہیں پنپ سکتے، یہ کامیابی صرف نیویارک کی نہیں بلکہ Humanity کی جیت ہے

Author

اپنا تبصرہ لکھیں