حالیہ طوفانی بارشوں میں پرانے مری روڈ پر واقع سترہ میل کے مقام پر گرنے والے تقریباً پانچ سو سال پرانے برگد کے درخت کو ریسکیو کرکے واپس اپنی جگہ پر کھڑا کر دیا گیا ہے۔ ماضی کی دھندلی یادوں کے آئینہ دار اس درخت نے سوشل میڈیا پر اس وقت کافی توجہ حاصل کی جب عوام کی ایک بڑی تعداد نے اس سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔
سترہ میل کے اس مقام پر برطانوی دور میں محصول چونگی ہوا کرتی تھی جبکہ اس سے پہلے یہ کشمیر جانے والے قافلوں کی گزرگاہ بھی تھا۔ پیدل اور مویشیوں کی گزرگاہ ہونے کی وجہ سے اس علاقے کو ‘سترہ میل’ کہا جاتا ہے۔
خواجہ مظہر اقبال گزشتہ پندرہ سال سے ماحولیات پر کام کر رہے ہیں۔ وہ اب تک کئی پرانے درختوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرکے انہیں نئی زندگی دے چکے ہیں۔ سترہ میل کے اس بوہڑ کو بچانے میں بھی انہوں نے بنیادی کردار ادا کیا۔
تاشقند اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ “پرانے مری روڈ پر واقع اس بوڑھے برگد کا جھکاؤ سڑک کی جانب تھا جبکہ دوسری طرف اس کی شاخیں یا تو موجود نہیں تھیں یا کاٹ دی گئی تھیں۔ اس درخت کے ساتھ ہی چشمے بھی بہتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ حالیہ طوفانی بارشوں کی وجہ سے اس کی جڑوں میں نمی چلی گئی اور یہ سڑک پر ہی گر گیا۔”
ترجیحی بنیادوں پر سڑک کھولنے کے لیے کرینوں کے ذریعے اس درخت کو ہٹانے کی کوشش کی گئی، مگر بھاری وزن کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہو سکا، جس کے باعث اس کی کچھ شاخیں کاٹ دی گئیں۔ مظہر اقبال بتاتے ہیں کہ “اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ گرے ہوئے درخت کو دوبارہ لگاتے وقت اس کی شاخیں کاٹی جاتی ہیں تاکہ نئی شاخیں نکلنے میں آسانی ہو۔ اس عمل کو انگریزی میں ‘پروننگ’ کہتے ہیں۔”
مظہر اقبال نے یہ ساری کوشش اپنی تئیں عوام کی مدد سے کی کیونکہ حکومت نے اس میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ ان کے مطابق اگر کوئی ادارہ یا حکومت کسی درخت کی دیکھ بھال کا ذمہ اٹھا لے تو وہ انہی کے توسط سے یہ کام انجام دیتے ہیں۔ بصورتِ دیگر درخت سے محبت کرنے والے لوگوں تک پیغام پہنچایا جاتا ہے اور ان کی مدد سے اس طرح کے تاریخی اور بوڑھے درختوں کو محفوظ بنایا جاتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ “اس درخت سے متعلق میں نے لوگوں سے مدد کی اپیل کی تھی۔ اسے اپنی جگہ بحال کرنے پر تقریباً ایک لاکھ سے زائد روپے کا خرچ آیا، جو لوگوں کے عطیات سے جمع ہوئے تھے۔”
“ابتدائی خرچ ہم نے خود اٹھایا لیکن ساتھ ساتھ لوگوں کی مدد بھی آنا شروع ہوئی۔ ہم نے کل ڈیڑھ لاکھ روپے جمع کیے ہیں، جن میں بقیہ رقم سے دوسرے مرحلے میں یہاں درخت کے اردگرد پتھروں کی دیوار کھڑی کریں گے اور اس مقام پر عوام میں آگاہی پھیلانے کے لیے دو اگست کو ایک تقریب کا اہتمام کیا جائے گا۔”
خواجہ مظہر کے مطابق برگد کے درخت کی عمر کا اندازہ اس کے تنے کی گولائی سے لگایا جاتا ہے۔ اگر کسی درخت کے تنے کی موٹائی بیس فٹ سے زیادہ ہو تو اس کی عمر پانچ سو سال سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس درخت کی موٹائی لگ بھگ تیس فٹ کے قریب ہے۔
اس وجہ سے پانچ سو سال پرانا یہ درخت ماضی کے کئی واقعات کا شاہد رہا ہے۔ خواجہ مظہر بتاتے ہیں کہ “شاید یہ برگد شیر شاہ سوری کے زمانے میں لگا ہو۔ اس نے مغلوں اور انگریزوں کا دور پوری آب و تاب کے ساتھ دیکھا ہوگا، جبکہ جنگِ آزادی اور تحریکِ آزادی کے منظرنامے بھی اس کے سامنے گزرے ہوں گے۔ اس لیے میں اس مقام کو ایک یادگار کے طور پر بنانا چاہتا ہوں۔”
خواجہ مظہر اس مقام کو پارک بنانے کی خواہش بھی رکھتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق اس درخت سے کئی لوگوں کی یادیں وابستہ ہیں۔ جوڈیشل کالونی، مقامی تنظیموں اور انفرادی سطح پر لوگوں سمیت لارنس کالج گھوڑا گلی کے سابق طلبہ کی ایک تنظیم نے اس میں کافی دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ یہ طلبہ اس درخت کو ‘یاہو ٹری’ پکارتے ہیں کیونکہ ماضی میں لارنس کالج گھوڑا گلی میں طلبہ وقفے کے دوران یہاں دوڑ لگاتے تھے اور اس کے لیے اس درخت کو ہاتھ لگانا ضروری ہوتا تھا۔
بوہڑ اور پیپل کے درخت بدھ مت، جین مت اور سکھ مت میں نہایت مقدس اور متبرک سمجھے جاتے ہیں۔ بابا گرونانک اور ان کے پیروکار پیپل کے درخت لگاتے تھے، جبکہ ہندو دھرم میں برگد کے درخت کو خاص تقدس حاصل ہے۔ برگد کا درخت اور اس کے ساتھ موجود تالاب ہندو آبادی کی علامت تصور کیے جاتے تھے۔
خواجہ مظہر کے لیے اس طرح درخت بچانا ایک علامت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ “سالانہ لاکھوں کی تعداد میں درخت لگائے جاتے ہیں لیکن جب تک ان کے ساتھ لوگوں کی وابستگی قائم نہیں کی جائے گی، تب تک بڑے پیمانے پر تبدیلی ممکن نہیں۔”
انہوں نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ “ہمارے ہاں سطح مرتفع پوٹھوہار کے ان سارے علاقوں میں اس طرح کے درختوں کو قومی ورثہ قرار دیا جانا چاہیے۔ اس کی حیثیت کمیونٹی سینٹر کی ہوا کرتی تھی۔ میرے اندازے کے مطابق اس پورے علاقے میں کم از کم پانچ ہزار ایسے درخت ہیں جو عنقریب گر جائیں گے۔ اس لیے حکومت کے پاس ان درختوں کو محفوظ بنانے کے لیے بھی طریقہ کار اور لائحۂ عمل ہونا چاہیے۔”