لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں۔ دونوں ممالک سے ہزاروں بے گھر افراد آج گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔ معاہدے کے مطابق اسرائیلی افواج 60 دِنوں کے دوران انخلا کو یقینی بنائیں گی، تاہم جنوبی لبنان کے بے گھر افراد گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔اس جنگ بندی معاہدے پر عالمی رہنماؤں نے خیر مقدم کیا۔
سلامتی کونسل کی قراداد 1701 کو نافذ کیا جائے
یورپی یونین رہنماؤں کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ” لبنان میں جنگ بندی کا معاہدہ مشرق وسطیٰ کی تباہ کن صورتحال میں اطمینان کا باعث ہے۔”
اُنہوں نے مزید کہا کہ “میں فرانس اور امریکہ کی ثالثی کی تعریف کرتا ہوں۔اب یہ انتہائی ضروری ہے کہ جنگ بندی برقرار رہے تاکہ لبنان اور اسرائیل کے شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے اور بے گھر افراد کی واپسی ممکن ہو۔ اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 کا مکمل نفاذ ناگزیر ہے۔”
امریکی صدر اور فرانسیسی صدر نے اِس موقع پر مشرکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ “آج، کئی ہفتوں کی انتھک سفارت کاری کے بعد، اسرائیل اور لبنان نے ایک دوسرے کے درمیان دشمنی ختم کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔” دونوں رہنماؤں نے اپنی جاری کردہ اعلامیے میں واضح کیا کہ ” یہ اعلان دیرپا امن کی بحالی کے لیے حالات پیدا کرے گا اور دونوں ممالک کے باشندوں کو بلیو لائن کے دونوں جانب اپنے گھروں کو محفوظ طریقے سے واپس جانے کی اجازت دے گا۔”
برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے اسرائیل اور لبنانی حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس معاہدے کو “ایک دیرپا سیاسی حل” میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے مزید کہا: “ہمیں غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے، تمام یرغمالیوں کی رہائی، اور بے حد ضروری انسانی امداد پر عائد پابندیوں کے خاتمے کی جانب فوری پیش رفت دیکھنے کی ضرورت ہے۔”
آئرلینڈ کے وزیر خارجہ مائیکل مارٹن نے ایک بیان میں کہا: “میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لبنان میں جنگ بندی کے معاہدے کے اعلان کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ دونوں فریقین کو پائیدار امن کے حصول کے لیے سنجیدگی سے بات کرنی چاہیے اور سلامتی کونسل کی قراداد 1701 کو مدِ نظر رکھتے ہوئے جنگ بندی کرنی چاہیے۔”