ریڈیو کا عالمی دن، “عمر رفتہ کی وہ یادیں جو آج بھی زندہ ہیں”

شاہ زمان کو عظمتِ رفتہ سے دلی لگاؤ ہے۔ وہ آج بھی روایت اور جدت کے سنگھم پر خود کو کھڑا پاتے ہوئے رشک کرتا ہے، لیکن جونہی ریڈیو سے اٹھنے والی آواز کی لہریں ان کے کانوں سے ٹکراتی ہیں تو ان کا لہجہ ماند پڑ جاتا ہے۔

اسی ماند لہجے میں وہ شکوہ کناں تھے کہ ریڈیو سے میری عمر بھر کی یادیں وابستہ ہیں۔ میرے گھر کے آنگن میں ابا حضور کی چارپائی، اس پر پڑا گلدار تکیہ اور پہلو میں وہ ریڈیو مجھے یاد آتا ہے، جو ہمارے لیے معلومات تک رسائی کا ذریعہ تھا۔

آج اگرچہ ریڈیو آن لائن دستیاب ہے، لیکن یہ عمرِ رفتہ کی یادوں کی جگہ نہیں لے سکتا۔ شاہ زمان کہتے ہیں کہ “اشفاق احمد کا ‘تلقین شاہ’ پروگرام تو ایک عرصے تک ہمارے گھر میں سنا جاتا تھا۔ خبرنامے کا وقت قریب آتے ہی چاروں طرف خاموشی چھا جاتی اور ہر کسی کے کان کھڑے ہو جاتے۔ خبرنامے کے آخری حصے تک یہ سکوت برقرار رہتا اور اس دوران بولنا تو گویا جرم تصور ہوتا تھا”۔

یہ خیبر پختونخوا کے اس خاندان سے وابستہ 63 سالہ شاہ زمان کے احساسات ہیں، جن کے گھر میں ریڈیو کو ایک مقام و مرتبہ حاصل تھا۔ لیکن سوال یہ ابھرتا ہے کہ کیا ریڈیو کی اہمیت اور افادیت آج کے جدید دور میں بھی برقرار ہے؟

بی بی سی ریڈیو سے پہلے لندن اور پھر لاہور میں تیس سال سے زیادہ عرصہ بطور پروڈیوسر، پریزنٹر اور بیورو چیف پنجاب وابستہ رہنے والے صحافی و تجزیہ کار شاہد ملک نے تاشقند اردو کو بتایا کہ “ریڈیو میں سامع کی توجہ متن پر زیادہ مرکوز ہوتی ہے۔ پریزنٹر کی ظاہری شخصیت، اس کے لباس کی تراش خراش اور حرکات و سکنات تفہیم کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتیں، جبکہ خبر رسانی کی رفتار تیز تر ہوتی ہے”۔

وہ کہتے ہیں کہ “یہی وجہ ہے کہ برطانیہ اور یورپ میں آج بھی اکثر لوگوں کے دن کا آغاز ریڈیو سننے سے ہوتا ہے۔ وقفے وقفے سے یہ سلسلہ شام گئے تک جاری رہتا ہے۔ ان ممالک میں بامعنی گفتگو کا کلچر بہت مستحکم ہے، اس لیے اکثر پروگرام حقیقت پسندانہ، معلومات افزا اور نہایت دلچسپ ہوتے ہیں”۔

یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ریڈیو کی اہمیت اور افادیت آج بھی برقرار ہے۔ شاہد ملک کے مطابق ماضی میں ہمارے ملک میں بھی ریڈیو نے خبر رسانی، سائنسی، ادبی اور کھیلوں سے متعلق معلومات پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ریڈیو سے ہمیں اردو اور انگریزی بہتر بنانے میں بھی بہت مدد ملی۔

ان کا کہنا تھا کہ “اب بھی سرکاری ریڈیو پر اور تعلیم و تربیت کے اداروں میں کلیدی عہدوں پر موزوں پیشہ ور اشخاص لگا دیے جائیں تو یہ کام دنوں میں ہو سکتا ہے”۔

ریڈیو میں گزرے لمحے یاد کرتے ہوئے شاہد ملک نے بتایا کہ “وہ نہایت خوشگوار تجربہ تھا۔ سینئر ساتھی صاحبِ علم و حلم تھے اور ان کا رویہ معاونت اور حوصلہ افزائی کا تھا۔ دوسرا، میں خود پولیٹیکل سائنس، اکنامکس، قانون، انگریزی زبان و ادب کا طالب علم رہ چکا تھا، جس کی بدولت یہ تجربہ مزید خوشگوار بن گیا۔ بعد ازاں ٹی وی رپورٹنگ اور پریزنٹیشن میں بھی کوئی دقت نہ ہوئی”۔

ریڈیو کو آج بھی پاکستان سمیت دنیا بھر میں ابلاغ کا مؤثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ریڈیو پاکستان میں 35 سال تک خدمات سرانجام دینے والے ڈاکٹر مصطفیٰ کمال نے تاشقند اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “بھارت میں اس وقت 1319، جبکہ سب سے جدید ملک سمجھے جانے والے امریکہ میں 15,485 ریڈیو اسٹیشنز ہیں۔ ایک اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں سال 2024 کے اندر ریڈیو کے 27 کروڑ سامعین ریکارڈ کیے گئے”۔

ڈاکٹر مصطفیٰ کمال کا خیال ہے کہ “ریڈیو کی اہمیت اور افادیت مسلمہ ہے۔ ریڈیو کا ماضی جتنا شاندار تھا، حال بھی اتنا ہی شاندار ہے، جبکہ مستقبل اس سے بھی زیادہ شاندار ہوگا”۔

“آج بھی لوگ سمجھتے ہیں کہ اخبار کی سرکولیشن کم ہو گئی ہے، لیکن جب تک علی الصبح سات بجے تفصیل سے خبریں اور تجزیے نہیں پڑھے جاتے تو تشنگی برقرار رہتی ہے”۔

مصطفیٰ کمال سمجھتے ہیں کہ “ریڈیو کو سننے کے انداز ضرور بدل گئے ہیں۔ ڈرائنگ روم میں سنا جانے والا ریڈیو اب راہ چلتے اور گاڑی چلاتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ اس کو جدیدیت سے تعبیر کیا جا سکتا ہے، جو ریڈیو کے حق میں بہتر ثابت ہوا ہے”۔

“ماضی میں ریڈیو ابلاغ کا ایک مضبوط ذریعہ تھا۔ کشمیر کے حریت پسند رہنماؤں نے کسی زمانے میں بیان دیا کہ ہمارے ہاں ابلاغ کے تمام ذرائع بند کر دیے گئے ہیں، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا تک رسائی ناممکن ہے، لیکن ریڈیو نے ہماری جدوجہد کے لیے امید کی کرن باقی رکھی ہے”۔

ڈاکٹر مصطفیٰ کمال کا خیال ہے کہ “ریڈیو خوف و ہراس پھیلانے سے گریز کرتے ہوئے انتہائی پرامن طریقے سے خبریں دیتا ہے، جس کے نتیجے میں انسانی ذہن بھی پرسکون رہتا ہے۔ مزید برآں، ریڈیو ‘most of population اور most of area’ کور کرتا ہے، اس لیے اس کے کردار کو کسی بھی زمانے میں فراموش نہیں کیا جا سکتا”۔

ریڈیو سے وابستہ رہنے والے صحافی اس آلۂ صوت کو کسی نعمت سے کم نہیں سمجھتے۔ بی بی سی اردو، ریڈیو پاکستان اور مختلف اداروں میں پندرہ برس سے ریڈیو پاکستان میں کام کرنے والے صحافی مدثر شیخ نے تاشقند اردو کو بتایا کہ “بظاہر لگتا ہے کہ ریڈیو بھی اخبار بینی کی طرح متروک ہوتا جا رہا ہے، لیکن حقیقتاً ایسا نہیں ہے، بلکہ ریڈیو ابلاغ کا آج بھی اسی طرح اہم اور مؤثر ذریعہ ہے جیسے ماضی میں ہوا کرتا تھا۔ البتہ ٹیکنالوجی کی ترقی نے اس کی شکل ضرور بدل دی ہے۔ جس صنف کو آج کل پوڈکاسٹ کہا جاتا ہے، یہ ریڈیو پروگرام کی ہی ویڈیو تشکیل ہے”۔

شاہد ملک سے اتفاق کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “ترقی پذیر ممالک میں تو دورانِ سفر موسیقی اور تفریح کے لیے ریڈیو سنا جاتا ہے، لیکن ترقی یافتہ ممالک میں مصدقہ معلومات اور تعمیری زبان دانی کے لیے ریڈیو کو بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ کتابوں اور اخبارات کے برعکس ریڈیو نے بدلتی ٹیکنالوجی کے مطابق تیزی سے خود کو ڈھالا ہے، اس لیے ٹیکنالوجی کی ترقی سے ریڈیو کی اہمیت کم نہیں ہوئی”۔

ریڈیو کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ “کسی جدید شہر میں بیٹھ کر اس کا جواب تلاش کیا جائے تو شاید تسلی بخش نہ ہو، لیکن دور دراز کے دیہات، محاذِ جنگ یا رات کے پچھلے پہر کا لمبا سفر ہو تو معلومات اور تفریح کا ذریعہ ریڈیو ہی ہے۔ تعلیمی و تدریسی اغراض سے کم و بیش ہر اعلیٰ تعلیمی ادارے نے اپنا ایف ایم ریڈیو ضرور بنا رکھا ہے، جبکہ کمیونٹی ریڈیو کے مختلف نیٹ ورکس رفاہِ عامہ کے لیے مختلف سرکاری و غیر سرکاری اداروں نے بنائے ہیں، اور لوگ ان کو اپنی ضرورت اور شوق سے سنتے ہیں۔ مجموعی طور پر ریڈیو سننے کا رجحان ماضی کے مقابلے میں بہتر ہوا ہے”۔

“زبان اور لب و لہجے کی درستگی ہو، بہترین صداکاروں اور پیش کاروں کی تیاری ہو یا خبر اور کہانی کو ذہنوں میں اتار دینے والے اسکرپٹ کی تحریر… مختلف انقلابات میں ابلاغ کی ذمہ دارانہ کاوش ہو یا موسیقی کی صورت میں یادگار تفریح… ریڈیو کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں”۔

مدثر شیخ سمجھتے ہیں کہ “ویسے تو یہ اثاثہ محفوظ ہی ہے، جب تک ابلاغ کا میدان باقی ہے، لیکن توجہ اور محنت کی ضرورت البتہ ضرور موجود ہے۔ نجی سطح پر اس میدان میں سرمایہ کاری اور سرکاری سطح پر اس کی سرپرستی اسے آگے بڑھانے کے لیے بہت ضروری ہے”۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں