یہ بحران جس تیزی سے گہرا ہو رہا ہے، وہ عالمی طاقتوں کے بدلتے اتحاد اور جغرافیائی سیاست کے نئے کھیل کی عکاسی کرتا ہے۔ روس-یوکرین جنگ نے دنیا کے توانائی اور تجارتی نظام کو ایک ایسی غیر متوازن صورت میں دھکیل دیا ہے جس کے اثرات ہر ملک کے ایوانِ اقتدار تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ لیکن بھارت کے لیے یہ جنگ صرف ایک خارجہ پالیسی چیلنج نہیں بلکہ Survival Test بن چکی ہے۔
The facts speak for themselves. امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی تیل خریدنے کے “violation of sanctions” پر بھارت پر نہ صرف اضافی پچیس فیصد ٹیرف کا اعلان کیا ہے بلکہ امریکی اور یورپی یونین کی طرف سے Indian refineries اور shipping companies پر پابندیاں بھی عائد کی جا رہی ہیں۔ یورپ نے بھارتی کمپنی “Nayara Energy” پر پابندی لگائی، جو روسی خام تیل کو ریفائن کر کے عالمی منڈی میں بیچتی ہے۔
یہاں اصل مسئلہ یہ ہے کہ چین بھی روسی تیل خریدتا ہے مگر resale نہیں کرتا، جبکہ بھارت نے اسے ایک مکمل کاروباری ماڈل میں بدل دیا ہے۔ *This is where the West draws the red line.* سن 2024 میں ہی بھارت نے 17 بلین ڈالر کا روسی تیل عالمی منڈی میں فروخت کیا، جو مغرب کے لیے کھلی چیلنجنگ تھی۔
دوسری طرف بھارت کی 60 سے 70 فیصد دفاعی ضروریات روسی ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی سے پوری ہوتی ہیں۔ It is a classic case of strategic dependency on both rival camps. معاشی ترقی کے لیے امریکا اور یورپ، جبکہ دفاع کے لیے روس — یہ دوہرا انحصار اب مودی حکومت کو ایک ایسے “strategic choke point” پر لے آیا ہے جہاں کوئی بھی فیصلہ دونوں میں سے کسی ایک کو ناراض کرے گا۔
Reference: Stockholm International Peace Research Institute (SIPRI) کے مطابق بھارت 2019 سے 2023 تک روس سے سب سے بڑا ہتھیار خریدار رہا، جس میں Su-30MKI لڑاکا طیارے، S-400 میزائل سسٹم اور T-90 ٹینک شامل ہیں۔ اگر مغرب نے روس سے دفاعی خریداری پر پابندی کا دباؤ بڑھا دیا تو بھارتی دفاعی صلاحیت براہِ راست متاثر ہوگی۔
مزید یہ کہ امریکا اور روس کے درمیان بیک چینل مذاکرات میں بھارت کا کردار بھی دباؤ میں ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی RAW کے چیف اجیت دول کا حالیہ ماسکو کا دورہ اسی سلسلے کی کڑی ہے، جہاں امریکا کے خصوصی نمائندے بھی موجود ہیں۔ It is a diplomatic tightrope walk, with no safety net.
مودی حکومت کی ایک متوقع حکمت عملی پاکستان کے ساتھ محدود جنگ چھیڑ کر عوام کی توجہ داخلی معاشی بحران اور عالمی دباؤ سے ہٹانا تھی، لیکن یہ پلان پاکستان کی ممکنہ جوابی کارروائی اور بین الاقوامی ردعمل کے خوف سے ناکام ہو گیا۔
بھارت کی اپوزیشن اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دے رہی۔ راہول گاندھی کھلے عام مودی پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ اپنے قریبی بزنس پارٹنر گوتم اڈانی کے خلاف امریکا میں جاری مالیاتی تحقیقات کے ڈر سے ٹرمپ کو سخت جواب نہیں دے رہے۔ Perception is everything in politics, اور یہ تاثر مودی کے لیے مہلک ہو سکتا ہے۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بڑی طاقتوں کی کشمکش میں درمیانی قوت رکھنے والے ممالک اگر وقت پر فیصلہ نہ کریں تو وہ یا تو مکمل ایک بلاک میں ضم ہو جاتے ہیں یا پھر عالمی نظام میں اپنی اسٹریٹیجک حیثیت کھو بیٹھتے ہیں۔ بھارت آج اسی دہانے پر کھڑا ہے۔
اگر روس-یوکرین جنگ اگلے چند ہفتوں میں ختم نہ ہوئی تو بھارت پر امریکا اور یورپ کا دباؤ ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ جائے گا۔ اس دباؤ کا مطلب صرف ٹیرف یا تجارتی پابندیاں نہیں بلکہ اسٹریٹیجک Isolation بھی ہے۔ In geopolitics, isolation is a slow death.
یہ لمحہ مودی حکومت کے لیے فیصلہ کن ہے۔ یا تو وہ ایک “balancing power” کے طور پر اپنی روایتی Non-Aligned پالیسی کو عملی شکل دیں، یا پھر عالمی طاقتوں کی جنگ میں ایک مہرہ بن جائیں۔ اگر فیصلے میں تاخیر ہوئی تو یہ باب بھارت کی تاریخ میں صرف مودی کی ناکامی نہیں بلکہ بی جے پی کی مکمل سیاسی گراوٹ کے طور پر لکھا جائے گا — اور اس بار تاریخ معاف نہیں کرے گی۔