سردیوں کے موسم میں جلد کا خشک ہونا ایک عام مسئلہ ہے، جس کی بڑی وجہ ہوا میں نمی کی کمی ہوتی ہے۔ ماہرینِ غذائیت کے مطابق اس مسئلے کی ایک اہم وجہ سردیوں میں چائے، کافی اور دیگر گرم مشروبات کا حد سے زیادہ استعمال بھی ہے۔ یہ مشروبات وقتی طور پر جسم کو گرم تو رکھتے ہیں لیکن ان کا زیادہ استعمال جسم سے پانی کے اخراج میں اضافہ کر دیتا ہے، جس سے جلد خشک، کھردری اور خارش کا شکار ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چائے اور کافی میں موجود کیفین پیشاب آور ہوتی ہے، جس کے باعث جسم میں پانی کی کمی پیدا ہو جاتی ہے۔ خاص طور پر وہ افراد جو عام دنوں میں کم کیفین استعمال کرتے ہیں، اگر سردیوں میں اچانک زیادہ چائے یا کافی پینا شروع کر دیں تو ان پر اس کا اثر زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ جسم میں پانی کی کمی کا سب سے پہلا اثر جلد پر پڑتا ہے، جو سوکھی اور بے جان دکھائی دینے لگتی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر روزانہ پانچ یا اس سے زیادہ کپ چائے یا کافی پی جائے تو اس سے نہ صرف جلد کی خشکی بڑھتی ہے بلکہ وقت کے ساتھ جلد پر جھریاں پڑنے اور لٹکنے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے مشورہ دیا گیا ہے کہ ہر کپ چائے یا کافی کے ساتھ ایک گلاس پانی ضرور پیا جائے تاکہ جسم میں پانی کی مقدار متوازن رہے۔
ماہرین صحت کے مطابق صرف مشروبات ہی نہیں بلکہ نہانے کا طریقہ بھی جلد کی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ سردیوں میں بہت زیادہ گرم پانی سے نہانا جلد کی قدرتی نمی کو ختم کر دیتا ہے، جس سے جلد مزید خشک ہو جاتی ہے۔ بہتر ہے کہ نیم گرم پانی استعمال کیا جائے اور نہانے کے فوراً بعد موئسچرائزر لگایا جائے تاکہ جلد کی نمی برقرار رہے۔
بالغ افراد کو روزانہ چھ سے آٹھ گلاس پانی پینا چاہیے کیونکہ پانی جلد کو صحت مند رکھنے کا سب سے سادہ اور مؤثر ذریعہ ہے۔ تاہم ماہرین نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر چائے اور کافی اعتدال کے ساتھ استعمال کی جائیں تو یہ نقصان دہ نہیں اور متوازن غذا کا حصہ بن سکتی ہیں۔