ان دنوں اسرائیل میں کام کرنے والے تھائی باشندے اپنی رہائی اور یرغمال بنائے جانے کی وجہ سے خبروں میں ہیں۔ غزہ میں جاری جنگ بندی کے معاہدے کے تحت 30 جنوری 2025 کو خان یونس میں حماس کی جانب سے اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کے تبادلے کے حصے کے طور پرپانچ تھائی شہری بھی انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (ICRC) کے حوالے کیے گئے۔
اسرائیل میں غیر ملکی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، خاص طور پر جنوب مشرقی ایشیائی ممالک سے جو ملکی لیبر مارکیٹ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کارکنوں کی اکثریت تھائی لینڈ، کمبوڈیا، سری لنکا، بھارت اور فلپائن سے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق اس وقت 30 ہزار سے زائد تھائی کارکن اسرائیل میں موجود ہیں۔حالیہ کشیدگی کی وجہ سے 7 ہزار سے زائد تھائی لینڈ واپس جا چکے ہیں۔ بڑی تعداد میں تھائی کارکن ان فارموں پر کام کرتے ہیں جو اسرائیل نے فلسطینیوں سے چھینی ہوئی زمین پر بنائے ہیں۔ جبکہ دیگر گھریلو کام اور بزرگوں کے دیکھ بھال کے لیے بھی ان سےخدمات لیے جاتے ہیں۔
اپنی کم آبادی کی وجہ سے اسرائیل تاریخی طور پر غیر ملکی افرادی قوت پر انحصار کرتا رہا ہے۔ تاہم، اسرائیل میں بہت سے تھائی کارکنوں کی صورتحال انسانی حقوق کے خدشات سے دوچار ہے۔ اسرائیلی لیبر رائٹس تنظیم کاو لاووڈ کی 2020 کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ 83 فیصد تھائی کارکنوں کو قانونی اجرت سے کم ادائیگی کی جاتی ہے۔ بہت سے کارکن غیر محفوظ حالات کا سامنا کرتے ہیں اور ضروری طبی امداد تک رسائی کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔
ان خدشات کو 2015 میں ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ میں بھی اجاگر کیا گیا تھا۔ 2022 میں امریکی محکمہ خارجہ کی انسانی سمگلنگ کی رپورٹ میں اسرائیل میں کچھ تھائی کارکنوں کے ساتھ سلوک کو "جبری مشقت” قرار دیا گیا۔