چینی کمپنی بائٹ ڈانس کا نیا اے آئی ماڈل ہالی ووڈ میں ہلچل کا باعث کیوں بن رہا ہے؟

ٹک ٹاک کی مالک چینی کمپنی بائٹ ڈانس کی جانب سے تیار کردہ مصنوعی ذہانت کا نیا ماڈل ’’سی ڈانس 2.0‘‘ اس ہفتے ہالی ووڈ میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ ماڈل صرف چند تحریری ہدایات کی مدد سے سنیما معیار کی ویڈیوز تیار کر سکتا ہے، جن میں آواز، مکالمے اور خصوصی اثرات بھی شامل ہوتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ایسی متعدد ویڈیوز وائرل ہو چکی ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اسی ٹیکنالوجی سے بنائی گئی ہیں۔ ان میں مقبول کردار جیسے اسپائیڈر مین اور ڈیڈ پول بھی دکھائی دیتے ہیں۔

کئی بڑے فلمی سٹوڈیوز، جن میں والٹ ڈزنی کمپنی اور پیرا ماؤنٹ پکچرز شامل ہیں، نے کمپنی پر کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ تاہم خدشات صرف قانونی نوعیت کے نہیں بلکہ تخلیقی صنعتوں کے مستقبل سے بھی جڑے ہیں۔

سی ڈانس کیا ہے؟

سی ڈانس کا پہلا ورژن جون 2025 میں متعارف کرایا گیا تھا، مگر آٹھ ماہ بعد آنے والے دوسرے ورژن نے زیادہ توجہ حاصل کی۔

دیگر اے آئی ٹولز جیسے مڈ جرنی اور سورا کی طرح یہ بھی تحریری ہدایات سے ویڈیو بنا سکتا ہے، مگر ماہرین کے مطابق اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ متن، منظر اور آواز کو ایک ہی نظام میں جوڑ دیتا ہے۔

سنگاپور میں قائم اینی میشن سٹوڈیو ٹنی آئی لینڈ پروڈکشنز کے سربراہ ڈیوڈ کووک کے مطابق اس ٹیکنالوجی سے بننے والے ایکشن مناظر حریف ماڈلز کے مقابلے میں زیادہ حقیقی محسوس ہوتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ویڈیو سازی کے میدان میں ایک نیا باب کھول سکتی ہے، مگر اس کے ساتھ کاپی رائٹ اور ڈیٹا کے استعمال سے متعلق سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔

کچھ ناقدین کے مطابق اے آئی کمپنیاں تیزی سے طاقتور ٹولز تو بنا رہی ہیں، لیکن مواد کے اصل تخلیق کاروں کو معاوضہ دینے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے معاملے پر واضح پالیسی اب بھی درکار ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں