مولانا فضل الرحمن صاحب کے لب و لہجے میں حالیہ تلخی کا سبب کیا ہے؟ مذہبی سیاست کی دنیا میں ، صرف مولانا ہیں جو استدلال سے بات کرتے ہیں اور ان کی بات میں ایک وزن ہوتا ہے ۔ یوں سمجھیے وہ اس وقت پارلیمانی سیاست میں مذہبی قوتوں کا آخری بھرم ہیں ۔ مولانا پر دلیل کی قوت کی بجائے یہی تلخی کا عنصر غالب رہا تو یہ صرف مولانا یا جے یو آئی کا نقصان نہیں ہو گا ، یہ مذہبی سیاست کا مشترکہ نقصان ہوگا۔
مذہبی سیاست کا محور بالعموم جذباتیت، تندی ، تلخی اور مثالیت پسندی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پارلیمانی سیاست میں ان کا وجود اب ایسے ہی ہے جیسے خواب میں واؤ معدولہ ہو۔ جس کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہ پڑتا ہو۔ یعنی مذہبی سیاسی جماعتیں تو موجود ہیں لیکن پارلیمان ان کے لیے عملا نامحرم ہو چکی ہے۔ اس میں واحد استثنا مولانا فضل الرحمن ہیں۔
مولانا نہ صرف پارلیمانی سیاست کا معتبر نام ہیں ، بلکہ محدود تر ووٹ بنک کے باوجود اس کا محور و مرکز بھی بنے رہے ہیں۔ مولانا کے سوا کوئی ایک مذہبی سیاست دان ایسا نہیں ہے جو پارلیمانی سیاست میں کوئی حیثیت رکھتا ہو۔ وہ مذہبی سیاست کے آخری معتبر نقوش میں سے ہیں ۔ اب مولانا بھی اگر اس مرحلے پر استدلال کی قوت سے بے نیاز ہو کر رد عمل اور تلخی پر مائل ہو گئے تو یہ اجتماعی نقصان ہو گا۔
مولانا کا لب و لہجہ روز بروز تلخ ہوتا جا رہا ہے۔ ہو سکتا ہے وہ اپنی ناقدری پر ناراض ہوں یا انہیں لگتا ہو قومی سیاست میں انہیں اہتمام سے مائنس کیا جا رہا ہے اور وہ تنگ آمد بجنگ آمد پر اتر آئے ہوں ۔
ان کے جذبات سمجھے جا سکتے ہیں۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی پر برا وقت تھا تو مولانا ہی ان کی آواز بنے تھے ۔ لیکن اقتدار میں آ کر وہ مولانا کو ایسے بھول گئے جیسے کبھی کوئی تعلق تھا ہی نہیں ۔
اسی طرح تحریک انصاف پر برا وقت تھا تو پارلیمان میں ان کا سہارا بھی مولانا بنے لیکن قائد حزب اختلاف کی بات آئی تو تحریک انصاف محمود اچکزئی صاحب کو لے آئی ۔ مولانا کے پی میں تحریک انصاف کے بنیادی حریف ہیں ، اچکزئی صاحب اس کے حریف نہیں ۔ اس لیے تحریک انصاف کے فیصلے کی حکمت تو سمجھ میں آتی ہے لیکن مولانا اگر ناراض ہوں تو یہ ناراضی بھی ناقابل فیم ہر گز نہیں ہے۔ سیاست میں مولانا شیرانی الگ ہو چکے ۔ مکتب میں جامعہ الرشید فاصلے پر جا کھڑا ہوا۔
تحریک انصاف کے سارے مخالفین کے پاس اپنی پناہ گاہیں موجود ہیں ، ن لیگ کے پاس پنجاب ہے جسے وہ سنبھالنے میں لگی ہوئی ہے، پیپلز پارٹی کے پاس سندھ ہے۔ مولانا کے پاس کچھ نہیں ہے۔ انہیں کے پی میں تحریک انصاف کاسامنا ہے اور کے پی میں ہی تحریک انصاف کا گڑھ ہے۔ مولانا نے ہی تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف صف اول میں تحریک چلائی ا ور وہی اب اکیلے کھڑے ہیں، یا یوں کہیے کہ انہیں اکیلا چھوڑ دیا گیا ہے ۔
ایک میدان امور خارجہ کا بچا تھا ۔ مولانا نے افغانستان کا دورہ کیا ۔ وہاں طالبان کی حکومت ہے ، مولانا رابطے اور اصلاح احوال کا کام کر سکتے تھے اور ان کی اہمیت دو چند دہو سکتی تھی لیکن دفتر خارجہ نے وضاحت کر دی اس دورے کا حکومت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ غیر رسمی سفارت کاری کی بجائے اب ریاست رسمی سفارت کاری کی جانب مائل تھی کہ جیسے باقی ریاستوں کے ساتھ معاملات ریاست کی سطح پر ہوتے ہیں یہاں بھی ویسا ہی ہو گا۔
منظر نامے کی یہ قوس قزح مولانا کے لیے پریشان کن ہے ۔ امکان یہ ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ بدگمانی یہ ہے کہ اس منظر نامے نے مولانا کو تلخ کر دیا ہے۔ مولانا کا اصل ہتھیار ان کا استدلال تھا، وہ بات کرتے تھے تو استدلال کی قوت ایسی ہوتی تھی کہ اسے دیگر مذہبی جماعتوں کی بات کی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔
مولانا اب استدلال کی بجائے تلخی کی طرف مائل ہیں۔ پارلیمان میں 10 سال تک کے بچوں کی شادیاں کروانے کا اعلان اپنے متن اور اسلوب سمیت اس پر شاہد ہے۔ تاویل کی گنجائش البتہ اب بھی موجود تھی کہ اس مطلع پر حافظ حمد اللہ صاحب نے ایسا مقطع کہہ ڈالا کہ جس کی تاویل کی بھی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ یہ وہی اسلوب گفتگو تھا جو مذہبی سیاست نے بالعموم اختیار کیا اور اپنا بھرم گنوا کر پارلیمانی سیاست سے دور ہوتی چلی گئی۔
اسلام آباد میں دہشت گردی کے حالیہ واقعے پر مولانا کا بیان بھی استدلال کی قوت سے بے نیاز ہے۔ اس میں مذہبی سیاست کے روایتی انداز میں ردیف قافیے میں تو ملائے گئے ہیں ، مولانا کا روایتی استدلال نظر نہیں آ رہا۔ اناروں اور دہشت گردوں کو ملانا تلخی اور غصے کا جواب آں غزل تو ہو سکتا ہے یہ مدلل موقف نہیں کہلا سکتا۔
مجھے ڈر ہے کہ مولانا جوں جوں تلخ ہوتے جائیں گے ان کے موقف سے استدلال کم ہوتا جائے گا اور رد عمل بڑھتا جائے گا۔ دلیل اور استدلال کے بغیر آنے والا رد عمل خود جے یو آئی اور مولانا کے لیے نقصان دہ ہو گا اور یہ رسم اسی طرح جاری رہی تو ایک وقت آئے گا ، یہ انہیں دیگر مذہبی سیاسی جماعتوں کی صف میں کھڑا کر دے گا جو اس وقت پارلیمانی سیاست میں ہومیو پیتھک دواخانے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں۔
عمران خان نے ایک بار انضمام الحق کے بارے کہا تھا کہ اسے خود معلووم نہیں وہ کتنا بڑا کھلاڑی ہے ، مولانا کو بھی شاید یہ معلوم ہی نہیں وہ صرف جے یو آئی کے رہنما نہیں ، وہ مذہبی سیاست کا آخری بھرم ہیں ۔ یہ بھرم اگر برف کے باٹ کی صورت دھوپ میں رکھا ہو تو دیوارِ دل سے اضطراب لپٹ جاتا ہے۔