روزمرہ کے ایپس میں چیٹ بوٹس کی شمولیت پر ماہرین تنقید کیوں کر رہے ہیں؟

دنیا بھر کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کو روزمرہ استعمال ہونے والی ایپس اور سروسز میں شامل کر رہی ہیں لیکن ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ تبدیلی زیادہ تر صارفین کی واضح رضامندی کے بغیر ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق، یہ رجحان نہ صرف انٹرنیٹ کے تجربے کو بدل رہا ہے بلکہ ڈیجیٹل اشتہارات اور آن لائن کاروبار کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔

سال کے آغاز میں جب لاکھوں افراد نے جی میل کھولا تو انہوں نے دیکھا کہ گوگل کا مصنوعی ذہانت پر مبنی اسسٹنٹ “جیمنی” ان کی ای میلز کا خودکار خلاصہ تیار کر رہا ہے، حالانکہ بہت سے صارفین نے اس کی باقاعدہ درخواست نہیں کی تھی۔ اسی طرح دو برس قبل گوگل نے اپنے سرچ انجن میں رزلٹس کے اوپر “اے آئی اوورویوز” شامل کیے جنہیں مکمل طور پر بند کرنے کا کوئی واضح اور آسان طریقہ موجود نہیں تھا۔

دوسری جانب میٹا نے بھی اپنی ایپس جیسے انسٹا گرام، واٹس ایپ اور میسنجر میں مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس شامل کر دیے ہیں۔ صارفین ان سے کم استعمال تو کر سکتے ہیں، مگر انہیں مکمل طور پر ہٹانا ممکن نہیں ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اب انٹرنیٹ ہر شخص کے لیے مختلف شکل اختیار کر رہا ہے۔ ایک ہی ویب سائٹ، اشتہار یا مصنوعات کی قیمت مختلف افراد کو مختلف انداز میں دکھائی جا سکتی ہے۔ یہ فرق صارف کی آن لائن سرگرمیوں، تلاش کی تاریخ اور چیٹ بوٹس سے ہونے والی گفتگو کی بنیاد پر طے ہوتا ہے۔ ناقدین کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ صارفین کے پاس اس نظام کو مکمل طور پر بند کرنے یا اس پر مکمل اختیار حاصل کرنے کا واضح حق نہیں۔

مصنوعی ذہانت کے اخلاقی پہلوؤں پر کام کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کمپنیوں کی جانب سے اسے زیادہ طاقتور اور مددگار ٹیکنالوجی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، لیکن عملی طور پر صارفین کا کنٹرول کم ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی جتنی ذاتی نوعیت اختیار کر رہی ہے، شفافیت اتنی ہی کم ہو رہی ہے۔

گوگل اور میٹا کا مؤقف ہے کہ وہ ایسے ڈیجیٹل معاون تیار کر رہے ہیں جو ای میل لکھنے، ٹکٹ بک کرنے، معلومات تلاش کرنے اور دیگر کاموں میں صارفین کی مدد کریں۔ گوگل کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے لیس سرچ انجن زیادہ مفید نتائج فراہم کر رہا ہے، جبکہ میٹا کے مطابق صارفین چاہیں تو مصنوعی ذہانت کے ساتھ کم تعامل کر سکتے ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ عملی طور پر ان خصوصیات کو مکمل طور پر نظرانداز کرنا آسان نہیں ہے۔

ماہرین کے مطابق، چیٹ بوٹس کو چلانا نہایت مہنگا عمل ہے اور اس وقت ان سے براہِ راست منافع حاصل نہیں ہو رہا۔ لیکن ان کے ذریعے کمپنیاں صارفین کے بارے میں کہیں زیادہ تفصیلی اور ذاتی معلومات اکٹھی کر رہی ہیں۔ گفتگو کے دوران صارفین اپنی دلچسپیاں، صحت سے متعلق مسائل، خریداری کے ارادے اور بجٹ جیسے معاملات شیئر کر دیتے ہیں، جو بعد میں ہدفی اشتہارات کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

مثال کے طور پر اگر کوئی صارف چیٹ بوٹ سے سردیوں میں دوڑنے کے جوتوں کے بارے میں سوال کرے تو اسے اسی موسم کے مطابق، اشتہارات دکھائے جا سکتے ہیں۔ اگر کوئی اپنا بجٹ بتائے تو اسے اسی کے مطابق رعایت یا قیمت پیش کی جا سکتی ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ مستقبل میں ایک ہی مصنوعات مختلف صارفین کو مختلف قیمت پر بھی دکھائی جا سکتی ہے۔ یعنی کفایت شعار صارف کو رعایت دی جا سکتی ہے جبکہ زیادہ خرچ کرنے کی سکت رکھنے والے کو وہی چیز مکمل قیمت پر پیش کی جائے۔

گوگل کا کہنا ہے کہ وہ قیمتوں میں غیر منصفانہ اضافے کو روکنے کے لیے ضابطے رکھتا ہے، لیکن ناقدین اس ماڈل کو نگرانی پر مبنی سرمایہ داری قرار دیتے ہیں، جس میں صارف کی ہر سرگرمی کاروباری فائدے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

گوگل عالمی سرچ مارکیٹ کا تقریبا 90 فیصد حصہ رکھتا ہے جبکہ میٹا کی ایپس روزانہ تقریبا ساڑھے تین ارب افراد استعمال کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب صارفین کسی بڑی کمپنی کے نظام کا حصہ بن جاتے ہیں تو متبادل موجود ہونے کے باوجود اسے چھوڑنا آسان نہیں ہوتا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مصنوعی ذہانت انٹرنیٹ کو زیادہ ذاتی اور سہل بنا رہی ہے، مگر اس کے بدلے میں پرائیویسی، شفافیت اور انتخاب کی آزادی متاثر ہو سکتی ہے۔ اب یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا مستقبل کا انٹرنیٹ مکمل طور پر بڑی کمپنیوں کے کنٹرول میں ہوگا یا صارفین کو بھی اس کی سمت متعین کرنے میں مؤثر کردار مل سکے گا۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں