کم عمر افراد میں کولوریکٹل کینسر کے بڑھتے ہوئے رجحان نے ماہرینِ صحت کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ حال ہی میں معروف امریکی اداکارجیمز وان ڈیر بریک48 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انہوں نے تقریبا دو سال قبل یہ انکشاف کیا تھا کہ انہیں کولوریکٹل کینسر لاحق ہے۔ ان کی موت نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ یہ بیماری اب صرف معمر افراد تک محدود نہیں رہی بلکہ کم عمر بالغ افراد میں بھی تیزی سے پھیل رہی ہے۔
امریکا میں 50 سال سے کم عمر افراد میں ابتدائی عمر کے کولوریکٹل کینسر کے کیسز میں 1990 کی دہائی کے وسط سے ہر سال اوسطا ایک سے دو فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق سب سے زیادہ تیز اضافہ کم ترین عمر کے گروہوں میں دیکھا گیا ہے۔ اگرچہ مجموعی طور پر گزشتہ دہائیوں میں کینسر سے ہونے والی اموات میں نمایاں کمی آئی ہے، لیکن 50 سال سے کم عمر افراد میں کولوریکٹل کینسر سے اموات کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ اب یہ بیماری اس عمر کے گروپ میں کینسر سے متعلق اموات کی سب سے بڑی وجہ بن چکی ہے اور اس نے پھیپھڑوں اور چھاتی کے کینسر کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اضافے کی کوئی ایک واضح وجہ سامنے نہیں آئی۔ معدے کی آنکولوجسٹ ڈاکٹر اپرنا پاریکھ کے مطابق ابتدائی عمر کے کولوریکٹل کینسر کے تقریبا 20 سے 30 فیصد کیسز موروثی جینیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہو سکتے ہیں، تاہم باقی کیسز میں ماحولیاتی اور طرزِ زندگی کے عوامل زیادہ اہم کردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
تحقیق میں ایک رجحان کو “برتھ کوہورٹ ایفیکٹ” کہا جاتا ہے، جس کے مطابق 1950 کی دہائی میں پیدا ہونے والی نسلوں سے شروع ہو کر ہر نئی نسل میں اس بیماری کا خطرہ پچھلی نسل کے مقابلے میں زیادہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حالیہ دہائیوں میں عام ہونے والی طرزِ زندگی کی عادات اور ماحولیاتی اثرات اس اضافے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
سائنسدانوں کو شبہ ہے کہ زیادہ مقدار میں اینٹی بایوٹکس کا استعمال، مائیکرو پلاسٹکس اور “فور ایور کیمیکلز” سے واسطہ، جسمانی سرگرمی میں کمی، اور پروسیسڈ غذا اور چینی کا زیادہ استعمال ممکنہ عوامل میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح ایسی غذائیں جن میں سرخ اور پراسیسڈ گوشت اور میٹھے مشروبات کی مقدار زیادہ جبکہ پھل، سبزیاں اور فائبر کم ہو، کولوریکٹل کینسر کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ یہ غذائیں آنتوں میں مفید اور نقصان دہ بیکٹیریا کے توازن کو بگاڑ کر دائمی سوزش کو بڑھا سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق شراب نوشی، تمباکو کا استعمال اور موٹاپا بھی اس بیماری کے ثابت شدہ خطرے کے عوامل ہیں، جبکہ موٹاپے کو خاص طور پر کم عمری میں ہونے والے کولوریکٹل کینسر سے جوڑا جا رہا ہے۔ بعض تحقیقات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ بچپن میں ہونے والے کچھ انفیکشن، جیسے ای کولی، جینوم میں تبدیلی لا کر بعد ازاں کینسر کے خطرے کو تیز کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر پاریکھ کا کہنا ہے کہ نوجوان افراد میں یہ کینسر زیادہ تر بڑی آنت کے بائیں حصے یا ریکٹم میں پایا جاتا ہے اور اکثر اس کی تشخیص اس وقت ہوتی ہے جب مرض کافی حد تک بڑھ چکا ہوتا ہے۔ اسی لیے بروقت اسکریننگ کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
موجودہ طبی رہنما اصولوں کے مطابق اوسط خطرے کے حامل افراد کو 45 سال کی عمر سے باقاعدہ اسکریننگ شروع کر دینی چاہیے، جو عموماً کولونوسکوپی کے ذریعے کی جاتی ہے۔ تاہم جن افراد کے خاندان میں کولوریکٹل کینسر یا ہائی رسک پولپس کی تاریخ موجود ہو، انہیں اسکریننگ اس سے پہلے شروع کرنی چاہیے۔
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر کسی شخص کو آنتوں کی عادات میں تبدیلی، پاخانے میں خون، بغیر وجہ وزن میں کمی یا نئی خون کی کمی جیسی علامات محسوس ہوں تو فوری طور پر اپنے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
جیمز وان ڈر بیک نے بھی بتایا تھا کہ 2023 میں انہیں آنتوں سے متعلق مسائل شروع ہوئے۔ جب غذا میں تبدیلی کے باوجود بہتری نہ آئی تو انہوں نے کولونوسکوپی کروائی، جس کے نتیجے میں ان کے کینسر کی تشخیص ہوئی۔ ان کا کیس اس بات کی یاد دہانی ہے کہ علامات کو نظرانداز کرنے کے بجائے بروقت طبی مشورہ لینا زندگی بچا سکتا ہے۔