بنگلہ دیشن نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے محمد یونس کی قیادت میں قائم عبوری حکومت کی اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے جس میں ارکانِ پارلیمان کو نئی ’’آئینی اصلاحاتی کونسل‘‘ کے رکن کے طور پر بیک وقت حلف لینے کی تجویز دی گئی تھی۔
یہ کونسل حالیہ عام انتخابات کے ساتھ منعقدہ ریفرنڈم کی روشنی میں بنگلہ دیش کے آئین میں تبدیلیوں کے لیے قائم کی جا رہی ہے۔
حلف برداری کی تقریب سے کچھ دیر قبل بی این پی کے سینئر رہنما صلاح الدین احمد نے پارٹی کے فیصلے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر پارٹی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان بھی موجود تھے۔
بعد ازاں بی این پی کے نومنتخب ارکان نے صرف بنگلہ دیش کی قومی پارلیمان کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔
پارٹی کا مؤقف ہے کہ آئینی اصلاحاتی کونسل کی شقیں تاحال موجودہ آئین کا حصہ نہیں ہیں، اس لیے اس معاملے پر پہلے پارلیمان میں تفصیلی غور و خوض ضروری ہے۔ بی این پی کے مطابق جب تک یہ کونسل آئینی طور پر منظور نہیں ہو جاتی، اس کے ارکان کے حلف کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
دوسری جانب جماعت اسلامی کے نومنتخب ارکانِ پارلیمان نے اعلان کیا ہے کہ اگر بی این پی کے ارکان آئینی اصلاحاتی کمیشن کے رکن کے طور پر حلف نہیں لیتے تو وہ بھی حلف نہیں اٹھائیں گے۔
ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق جماعتِ اسلامی کے نائب امیر عبد اللہ محمد طاہر نے منگل کی صبح میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کی جماعت تقریب میں شرکت کرے گی، تاہم اگر بی این پی کے ارکان آئینی اصلاحاتی کمیشن کے لیے حلف نہیں لیتے تو جماعت کے ارکان بھی کسی قسم کا حلف نہیں اٹھائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعت کا مؤقف ہے کہ آئینی اصلاحات کے بغیر پارلیمان بے معنی ہے۔
بی این پی کے مطابق انہیں آئینی اصلاحاتی کمیشن کا رکن منتخب نہیں کیا گیا اور یہ کمیشن تاحال آئین کا حصہ بھی نہیں ہے۔ ان کے مطابق اگر ریفرنڈم کے تحت کمیشن قائم کیا جاتا ہے تو اسے پہلے آئین میں شامل کرنا ہوگا اور یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ اس کے ارکان سے حلف کون لے گا۔