عالمی ادارہ صحت ڈہلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں ویپ یا ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک سو ملین سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں کم از کم 1.5 کروڑ بچے بھی شامل ہیں۔ ادارے کے مطابق یہ صورتحال نکوٹین کی لت کی ایک نئی اور خطرناک لہر کو جنم دے رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، بچے بالغوں کے مقابلے میں اوسطاً نو گنا زیادہ ویپنگ کرتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے ڈاکٹر ایٹین کروگ نے کہا کہ ای سگریٹ کو نقصان کم کرنے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر حقیقت میں یہ بچوں کو نکوٹین کی لت میں مبتلا کر رہے ہیں اور تمباکو نوشی کے خلاف برسوں کی محنت ضائع کر سکتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس نے تمباکو کمپنیوں پر الزام لگایا کہ وہ نوجوانوں کو نشانہ بنا کر نئی نسل میں نکوٹین کے استعمال کو فروغ دے رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں کروڑوں لوگ تمباکو نوشی ترک کر رہے ہیں، مگر تمباکو کمپنیاں نئے نکوٹین مصنوعات کے ذریعے نوجوانوں کو دوبارہ عادی بنا رہی ہیں۔ حکومتوں کو تمباکو پر قابو پانے کے سخت اقدامات فوری طور پر نافذ کرنا ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق 109 ممالک، بالخصوص افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا کے کئی ملک، ویپنگ سے متعلق درست اعداد و شمار جمع نہیں کرتے۔ تاہم اندازوں کے مطابق فروری دو ہزار پچیس تک 8 کروڑ 60 لاکھ بالغ افراد اور 1 کروڑ 50 لاکھ تیرہ سے پندرہ سال کے بچے ویپنگ کر رہے تھے۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اگرچہ کئی ممالک نے بچوں میں ویپنگ کے بڑھتے رجحان کو روکنے کے لیے قوانین بنائے ہیں، لیکن 2024 کے اختتام تک 62 ممالک میں اس حوالے سے کوئی پالیسی موجود نہیں تھی، جبکہ 74 ممالک میں ای سگریٹ خریدنے کی کم از کم عمر بھی مقرر نہیں کی گئی تھی۔
خواتین میں تمباکو نوشی کی شرح 2010 میں 11 فیصد سے کم ہو کر 2024 میں 6.6 فیصد پر آگئی، جبکہ مردوں میں یہ شرح اسی عرصے میں 41.4 فیصد سے گھٹ کر 32.5 فیصد رہ گئی۔