امریکی عدالت کی محمود خلیل کو ملک بدر کرنے کی اجازت، محمود خلیل کون ہیں؟

امریکی ریاست، لوزیانا میں ایک امیگریشن جج نے فیصلہ سنایا ہے کہ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ فلسطینی نژاد کولمبیا یونیورسٹی کے طالبعلم اور سماجی کارکن، محمود خلیل کے خلاف ملک بدری کی کارروائی جاری رکھ سکتی ہے، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں میں گہری تشویش پائی جا رہی ہے۔
یہ فیصلہ لوزیانا کے دیہی علاقے میں قائم لاسیل امیگریشن کورٹ کے جج، جیمی کومنز نے سنایا۔ یہ عدالت ایک نجی ٹھیکیدار کے زیرانتظام اس جیل کے اندر قائم ہے جو خاردار تاروں سے گھری ہوئی ہے اور جہاں تارکین وطن کو حراست میں رکھا جاتا ہے۔

محمود خلیل کون ہیں؟
محمود خلیل کولمبیا یونیورسٹی، نیویارک کے طالبعلم ہیں اور فلسطینیوں کے حق میں سرگرم احتجاجی تحریکوں میں ایک نمایاں آواز سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی پیدائش شام کے ایک فلسطینی پناہ گزین کیمپ میں ہوئی، جبکہ وہ الجزائر کی شہریت رکھتے ہیں۔ گزشتہ برس انہیں امریکا میں قانونی طور پر مستقل رہائش دی گئی تھی۔ ان کی اہلیہ، نور عبداللہ، ایک امریکی شہری ہیں۔

سیکریٹری خارجہ، مارکو روبیو نے گزشتہ ماہ ایک سرکاری خط کے ذریعے 1952 کے امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ، محمود خلیل کو ملک سے نکالا جانا چاہیے، کیونکہ ان کی موجودگی امریکی خارجہ پالیسی پر سنگین منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔ عدالت کو دیے گئے دو صفحات پر مشتمل خط میں روبیو نے دعویٰ کیا کہ، خلیل یہود مخالف مظاہروں اور تخریبی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں، جس سے امریکا میں یہودی طلبہ کے لیے ایک معاندانہ ماحول پیدا ہوا۔
تاہم، خط میں محمود خلیل پر کسی جرم میں ملوث ہونے کا کوئی براہِ راست الزام عائد نہیں کیا گیا۔

خلیل کا مؤقف
محمود خلیل اور ان کے وکلا نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ، انہیں اپنی آزادیِ اظہار کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت محفوظ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ، فلسطین سے متعلق مظاہروں میں شرکت اور امریکی خارجہ پالیسی پر تنقید کو ملک بدری کی بنیاد بنانا نہ صرف غیر آئینی ہے، بلکہ ایک خطرناک نظیر بھی قائم کرے گا۔
خلیل، جنہیں 8 مارچ کو نیویارک میں کولمبیا یونیورسٹی کے اپارٹمنٹ سے گرفتار کیا گیا تھا، اس وقت لوزیانا کی جیل میں قید ہیں اور انہوں نے خود کو سیاسی قیدی قرار دیا ہے۔ ان کے وکلا کے مطابق، عدالت نے اب انہیں حکومت کی جانب سے پیش کردہ ثبوتوں کا تفصیلی جائزہ لینے کی اجازت دی ہے۔
ماہرین قانون کے مطابق، یہ کیس ریپبلکن قیادت کی ان کوششوں کی علامت بن چکا ہے جس کے تحت فلسطین نواز غیر ملکی طلبہ کو امریکا سے بے دخل کیا جا رہا ہے، چاہے وہ قانونی طور پر یہاں مقیم ہوں اور ان پر کوئی مجرمانہ الزام بھی عائد نہ ہو۔

ٹرمپ دور میں فلسطین سے ہمدردی رکھنے والے غیر ملکی شہریوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے، اور محمود خلیل کا کیس اس پالیسی کی ایک تازہ مثال کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ اقدام ان دنوں سامنے آیا ہے جب امریکا کی مختلف جامعات میں اسرائیل کے خلاف اور فلسطین کے حق میں مظاہروں کا سلسلہ شدت اختیار کر چکا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ، اگر عدالت خلیل کی ملک بدری کی منظوری دیتی ہے تو یہ اقدام نہ صرف امریکی جامعات میں جاری احتجاجی تحریکوں پر اثر ڈالے گا، بلکہ آزادیِ اظہار پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان قائم کرے گا۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں