جامعہ دارالعلوم حقانیہ حملہ کس نے کیا ؟

جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے بعد ہونے والے خود کش دھماکے میں جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ اور مدرسے کے نائب مہتمم مولانا حامد الحق حقانی سمیت چھ افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ اس سے قبل مولانا حامد الحق حقانی کے والد مولانا سمیع الحق کو 2 نومبر 2018 کو راولپنڈی میں ان کے گھر میں نامعلوم افراد نے چاقو کے وار کر کے شہید کر دیا تھا۔ اس وقت ان کے سیکریٹری، احمد شاہ، گھر سے باہر گئے ہوئے تھے۔ ابتدائی طور پر احمد شاہ کو تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا، لیکن بعد میں مولانا سمیع الحق کے بیٹوں نے عدالت میں بیان دیا کہ وہ احمد شاہ کو قتل کا ذمہ دار نہیں ٹھہراتے۔ اس کے بعد احمد شاہ پر سے الزامات واپس لے لیے گئے۔ تاہم، مولانا سمیع الحق کے قاتلوں کی شناخت اور گرفتاری تاحال عمل میں نہیں آئی۔
آج اکوڑہ خٹک میں ہونے والے دلخراش واقعہ نے سیکیورٹی اداروں کی صلاحیت پر متعدد سوالات اٹھا دیے ہیں کہ آخر خود کش بمبار سارا خیبر پختونخواہ صوبہ عبور کرتا ہوا جامعہ حقانیہ کیسے آن پہنچا ؟
واضح رہے کہ جامعہ حقانیہ ہمیشہ سے عسکریت پسندوں کے حوالے سے خبروں میں رہا ہے۔ افغان طالبان مولانا سمیع الحق کا بہت احترام کرتے تھے بلکہ وہ انہیں استاد کا درجہ دیتے تھے ۔ اسی طرح ٹی ٹی پی کے لوگ بھی جامعہ دارالعلوم حقانیہ کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ ایسے میں یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اگر مقامی و افغانی طالبان جامعہ حقانیہ کو احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں تو پھر آج ہونے والے خود کش بم دھماکے میں کون ملوث ہے؟
محتاط اندازے کے مطابق یہ قرار دیا جا سکتا ہے کہ طالبان اس حملے میں ملوث نہیں ہیں تو پھر یقینی طور اس حملے میں وہ عناصر ملوث ہیں جو طالبان کے حریف ہیں ۔ یہ حقیقت ہم سب جانتے ہیں کہ اس وقت طالبان کو دولت اسلامیہ خراسان کے جنگجوؤں کا سامنا ہے اور دولت اسلامیہ خراسان طالبان کو قتل کرنے کیلئے اعلانیہ حملے کر رہی ہے۔

دولت اسلامیہ خراسان کے ایک خودکش حملہ آور نے حال ہی میں افغانستان کے علاقہ قندوز میں ایک بینک کے قریب دھماکہ کیا تھا۔ دولت اسلامیہ خراسان نے بعد میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ طالبان فوجیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا تاہم اس حملے میں متعدد عام شہری بھی ہلاک ہوئے۔دو ماہ قبل بھی ایک خودکش بمبار نے طالبان حکومت کے وزیر برائے مہاجرین خلیل الرحمن حقانی کو ان کے دفتر کے اندر ہلاک کر دیا تھا۔
آج ہونے والے خود کش دھماکے میں اگر واقعی دولت اسلامیہ خراسان ملوث ہے تو یہ پاکستان کیلئے ایک انتہائی تشویشناک صورتحال کی علامت ہے ۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بڑی مشکل سے پاکستان سے دہشت گردی کا ناسور ختم کیا ہے ۔ اب اگر یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہوجاتا ہے یہ ملکی سلامتی کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا۔ پاکستان اس وقت معاشی چیلنجز سے نبرد آزما ہے ۔ غیرملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی جا رہی ہے ۔ ظاہر ہے اگر پاکستان میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے تو پھر غیرملکی سرمایہ کاری پر بھی سوالیہ نشان ثبت ہوجائے گا ۔ حکومت پاکستان ان حالات میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو کیسے یہ یقین دلا سکتی ہے کہ پاکستان سرمایہ کاری کیلئے ایک موزوں ملک ہے ۔ لہذا جس قدر جلد ممکن ہوسکے سیکیورٹی اداروں کو جامعہ حقانیہ میں ہونے والے خود کش حملے کی تحقیقات کرنی چاہیں اور اصل ملزمان تک پہنچ کر ان کا سدباب کرنا چاہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں