پاکستان میں بڑھتا سموگ”دی گریٹ لندن سموگ” سے کیا سبق حاصل کیا جاسکتا ہے؟

سموگ اور آلودہ ہواؤں نے لاہور کے بعد پاکستان بھر کے مختلف شہروں کو لپیٹ میں لے لیا ہے، جس کی وجہ سے سانس لینا محال ہوچکا ہے۔ معمولات زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئے ہیں ۔ لوگ آنکھ، گلے اور سانس کی بیماریوں کا شکار ہونے لگے ہیں۔شہر گہرے سیاہ دھوئیں میں ڈوب چکے ہیں ۔حد نگاہ تقریبا صفر ہو گئی ہے۔

پچھلے چند سال سے یوں محسوس ہورہا ہے جیسے پاکستان میں چار موسموں کے ساتھ ایک موسم مزید شامل ہوگیا ہے اور وہ سموگ کا موسم ہے ۔ یونیسف کے مطابق اس وقت صرف پنجاب میں پانچ سال سے کم عمر ایک کروڑ دس لاکھ بچے سموگ سے متاثر ہورہے ہیں۔۔ پنجاب میں سموگ ڈبلیو ایچ او کی پالیسی گائیڈلائن سے بھی سو گنا اوپر تک پہنچ چکی ہے۔

سموگ کی کیا وجوہات ہیں؟
سموگ کی مختلف وجوہات ہیں ۔ نومبر کے مہینے میں بھارت سے ہوائیں پاکستان کی طرف آنا شروع ہوتی ہیں اور سرحد کے دونوں اطراف پنجاب میں نئی فصلیں لگانے کاکام شروع ہوتا ہے۔کسان چاول کی فصل کاٹ کر ا س کی باقیات جلانا شروع کرتے ہیں ۔ یوں یہ دھواں لاہور اور پنجاب میں آلودگی کا سبب بنتا ہے۔

کچھ ہی دن پہلے ناسا نے اپنی سیٹلائیٹ کی ایک تصویر شئیر کی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ گذشتہ سال کی نسبت اس سال بھارتی پنجاب میں لوگوں نے زیادہ فصلیں جلائیں جس سے سموگ میں اضافہ ہوا۔

دوسری بڑی وجہ فیکٹریوں او ر گاڑیوں کا دھواں ہے۔۔ ملک بھر میں گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔شہروں میں نئی فیکٹریاں بنائی جارہی ہیں جس سے موسم تبدیل ہورہے ہیں اور سموگ بڑھ رہی ہے۔

تیسری بڑی وجہ انہی موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بارش کا نا ہونا ہے۔ ایک لمبے عرصے سے لاہور اور پنجاب میں بارش نہیں ہوئی اور پنجاب حکومت مصنوعی بارش کے لیے کوششیں کررہی ہے لیکن اس میں ابھی تک کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔

1952میں لند ن اچانک سموگ کی لپیٹ میں آیا۔لوگ کھانس کھانس کر مرنے لگے اور لگ بھگ ایک ہفتے میں ہی چار ہزار کے قریب لوگوں کی ہلاکت ہوئی ۔اس ایک حادثے کے بعد برٹش حکومت نے پالیسیز بنانا شروع کیں اور چار سال بعد 1956میں ایک قانون Clean Air Act
پاس کیا۔ وہ فیکٹریز کو شہر سے باہر لے گئے۔ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں پر سختی کی گئی ۔گھروں اور فیکٹریوں میں کوئلے پر پابندی لگائی گئی اور یوں اگلے چند سال میں انہوں نے سموگ پر قابو پالیا۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں