‘معاشرہ خوبصورتی کا وہ معیار قائم کر رہا ہے جو ہمیشہ صحت کے مطابق نہیں ہوتا’، سوچیے اگر وزن کم کرنے والی دوائیاں ضرورت سے زیادہ موثر ثابت ہوئیں تو کیا ہوگا؟

دنیا بھر میں موٹاپے کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی نئی وزن کم کرنے والی دوائیں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں، لیکن ماہرین صحت اب اس سوال پر غور کر رہے ہیں کہ اگر یہ دوائیں حد سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئیں اور مریضوں کا وزن ضرورت سے زیادہ کم ہو گیا تو اس کے کیا نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

امریکی دوا ساز کمپنی ایلی لیلی ایک نئی دوا ریٹاٹروٹائڈ تیار کر رہی ہے، جس کے حالیہ طبی آزمائشی مطالعے کے ابتدائی نتائج نے طبی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ اس تحقیق میں ایسے مریض شامل تھے جو موٹاپے کے ساتھ گھٹنوں کے درد، یعنی اوسٹیو آرتھرائٹس، میں مبتلا تھے۔ بتایا گیا ہے کہ 68 ہفتوں کے دوران ان مریضوں کا اوسطا 28 اعشاریہ 7 فیصد جسمانی وزن کم ہوا، جو موجودہ معروف وزن کم کرنے والی ادویات سے بھی زیادہ ہے۔

اس وقت بازار میں دستیاب دوائیں جیسے اوزِمپک اور ویگوئی عموماً تقریباً 20 فیصد تک وزن کم کرتی ہیں، جبکہ نئی دوا کے نتائج اس سے کہیں زیادہ سامنے آئے ہیں۔ تاہم اس آزمائش کے دوران 12 سے 18 فیصد مریضوں نے مضر اثرات کی وجہ سے علاج ادھورا چھوڑ دیا۔ کمپنی کے مطابق کچھ مریضوں نے یہ کہتے ہوئے دوا ترک کی کہ ان کا وزن ضرورت سے زیادہ تیزی سے کم ہو رہا تھا، جو ان کے لیے باعثِ تشویش تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ضرورت سے زیادہ وزن کم ہونا بھی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے جسمانی کمزوری، غذائی قلت، پانی کی کمی، مسلسل متلی، خوراک میں کمی، پٹھوں کی کمزوری اور ذہنی دباؤ جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ بعض افراد کو یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ بہت زیادہ وزن کم ہونے کے بعد ان کی جسمانی ساخت غیر فطری دکھائی دینے لگتی ہے۔

ڈیوڈ ہیمین، جو ایلی للی کے اعلیٰ طبی افسر ہیں، کا کہنا ہے کہ ہر مریض کے لیے ایک جیسا وزن کم کرنا مقصد نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ دوا خاص طور پر ان افراد کے لیے تیار کی جا رہی ہے جنہیں طبی طور پر زیادہ وزن کم کرنے کی ضرورت ہو۔ اسی طرح ییل یونیورسٹی سے وابستہ ماہر ڈاکٹر اینیا جیسٹریبؤف کا کہنا ہے کہ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ مریض کو کم سے کم ایسی مقدار دی جائے جو اس کے لیے مؤثر ہو اور غیر ضروری خطرات سے بچائے۔

دوسری جانب نوو نارڈسک، جو اوزیمپک تیار کرتی ہے، نے اپنی نئی دوا کیگری سیما کے آزمائشی مرحلے میں خوراک کو لچکدار رکھنے کا طریقہ اپنایا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت اگر مریض کو مضر اثرات ہوں تو دوا کی مقدار کم کر دی جاتی ہے یا اگر وزن مناسب حد تک کم ہو جائے تو علاج میں تبدیلی کی جاتی ہے۔ کمپنی نے اس دوا کی منظوری کے لیے امریکی ادارہ برائے خوراک و ادویات سے بھی رجوع کیا ہے۔

ماہرین غذائیت کا کہنا ہے کہ اصل خطرہ بعض اوقات وہ ہوتا ہے جو فوری طور پر نظر نہیں آتا۔ سیئٹل کی ماہر غذائیت ماورین چومکو کے مطابق کئی مریضوں کو شدید متلی کی شکایت ہوتی ہے جس کے باعث وہ مناسب غذا نہیں لے پاتے اور غذائی کمی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے مریضوں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ باقاعدگی سے کھانا کھائیں، زیادہ پانی پئیں اور پروٹین، فائبر، وٹامن ڈی اور کیلشیم کی مناسب مقدار یقینی بنائیں۔

یونیورسٹی آف میشیگین کے ڈاکٹر اینڈریو کرافٹسن کا کہنا ہے کہ معاشرہ خوبصورتی کے ایسے معیار قائم کر رہا ہے جو ہمیشہ صحت کے مطابق نہیں ہوتے۔ ان کے مطابق صرف دبلا ہونا صحت مند ہونے کی علامت نہیں۔ انہوں نے ایک ایسے مریض کا ذکر کیا جسے دوا روکنی پڑی کیونکہ وہ طبی ضرورت نہ ہونے کے باوجود مزید وزن کم کرنا چاہتا تھا۔

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ موٹاپا ایک دائمی بیماری ہے اور اس کا علاج ضروری ہے، تاہم وزن کم کرنے میں توازن برقرار رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ نہ ضرورت سے زیادہ وزن کم ہونا صحت مند ہے اور نہ ہی علاج میں کوتاہی۔ اب ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ مناسب مقدار، مسلسل طبی نگرانی اور مریض کی مجموعی صحت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ان دواؤں کا استعمال یقینی بنایا جائے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں