ایران نے کیا کھویا کیا پایا!

اسلامی جمہوریہ ایران… یہ صرف ایک ملک نہیں، ایک داستان ہے، خون سے لکھی گئی، صبر سے سنواری گئی، اور استقامت سے زندہ رکھی گئی، 1979 کا انقلاب ایران محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھا، یہ ایک اعلان تھا کہ ایک قوم غلامی، مداخلت اور بیرونی تسلط کے خلاف کھڑی ہو سکتی ہے، چاہے اس کی قیمت نسلوں کو کیوں نہ چکانی پڑے، اس انقلاب نے ایک ایسے نظام کو جنم دیا جس نے دنیا کی بڑی طاقتوں—امریکہ اور اسرائیل—کو کھلے عام چیلنج کیا، اور یہی وہ لمحہ تھا جب ایران نے اپنا راستہ چن لیا، آسانی کا نہیں، بلکہ قربانی کا، یہ راستہ پھولوں سے نہیں، شہادتوں سے سجا ہوا ہے، قاسم سلیمانی، ایک ایسا نام جو صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک محاذ تھا، بغداد ائیرپورٹ پر 3 جنوری 2020 کی رات امریکی ڈرون حملے میں شہید کیا گیا.

یہ صرف ایک قتل نہیں تھا، یہ ایک پیغام تھا کہ مزاحمت کی قیادت کو مٹایا جا سکتا ہے، مگر نظریہ نہیں، اسی طرح محسن فخری زادہ کو ابسارڈ میں شہید کیا گیا، اور شام کے محاذ پر حسین ہمدانی نے حلب کے قریب جان دی، یہ سب اس تسلسل کی کڑیاں ہیں جہاں قیادت خود میدان میں اترتی ہے، اور پھر وہ لمحہ جس نے پوری امت کو ہلا کر رکھ دیا، رہبرالمسین، محافظ القدس آیت اللہ سید علی حسین خامنہ ای کی شہادت، یہ ایک ایسا زخم ہے جس کی تپش آج بھی محسوس کی جا رہی ہے، ایک عظیم رہنما، ایک نظریاتی ستون، ایک قائد جس نے ہمیشہ فلسطین اور مظلوم امت کے لیے اپنی زندگی وقف کی، جس کی قیادت نے ہر دشمن کے منصوبے کو ناکام بنایا، جس کے الفاظ، مشورے اور حکمت نے ایران اور مزاحمتی محاذ کو مضبوطی دی.

آج اس کا خون زمین پر نہیں، بلکہ ہر دل میں روشنی اور ہر نظریے میں حیات کی صورت میں بہتا ہے، یہ شہادت صرف ایران کے لیے نہیں، بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے ایک سبق ہے کہ قربانی، استقامت اور حق کی حفاظت کی قیمت کبھی کم نہیں ہوتی، اس کے بعد سید ابراہیم رئیسی کی شہادت مشرقی آذربائیجان کے پہاڑوں میں ایک حادثے کی صورت میں ہوئی، محمد رضا زاہدی کو دمشق میں نشانہ بنایا گیا، ڈاکٹر علی لاریجانی کی قربانی نے قوم کو اور بھی زیادہ سوگوار کر دیا، یہ پیغام دینے کے لیے کہ ایران کی عسکری اور سیاسی قیادت محفوظ نہیں، اور اب وہ دعوے اور خبریں جو خطے میں گردش کر رہی ہیں

ایران کی اعلی قیادت کو نشانہ بنانے کی اطلاعات اور محاذ پر خطرات، یہ سب ایک نئی جنگ کا اشارہ ہیں، ایک ایسی جنگ جو صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ نفسیاتی، اطلاعاتی اور قیادت کو مفلوج کرنے کی حکمت عملی پر مبنی ہے، یہاں احتیاط ضروری ہے، ہر خبر تصدیق شدہ ہے، لیکن دشمن کی کوشش یہی ہے کہ سر کو کاٹ دیا جائے تاکہ جسم خود بخود گر جائے، ایران میں قیادت افراد پر نہیں، نظریے پر کھڑی ہے، ایک گرتا ہے تو دوسرا اٹھ کھڑا ہوتا ہے، ایک شہید ہوتا ہے تو ہزاروں اس کے نام کو لے کر میدان میں آ جاتے ہیں، یہی وہ راز ہے جو امریکہ اور اسرائیل کی تمام تر حکمت عملیوں کے باوجود ایران کو ختم نہیں ہونے دیتا، ایران نے کیا پایا، اس نے استقامت کو پایا.

ایک ایسا حوصلہ جو پابندیوں، حملوں، اور عالمی تنہائی کے باوجود نہیں ٹوٹا، اس نے آبنائے ہرمز جیسے حساس مقام پر اپنی موجودگی کے ذریعے دنیا کو یہ باور کرایا کہ وہ صرف ایک ملک نہیں بلکہ عالمی نظام کو متاثر کرنے والی طاقت ہے، اس نے یہ ثابت کیا کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو کمزور وسائل کے باوجود بڑی طاقتوں کو چیلنج کیا جا سکتا ہے، مگر اس نے کیا کھویا، اس نے اپنی معیشت کو قربان کیا، اپنے گھروں کو شہداء کے لہو سے بھر دیا، ہر شہادت ایک کہانی ہے، ہر جنازہ ایک سوال ہے، ہر ماں کی آنکھ میں ایک خاموش درد ہے، اور اس سب کے درمیان عرب دنیا کی خاموشی.

عرب لیگ کے ایوانوں میں گونجتے بیانات اور زمینی حقیقت کے درمیان فرق اتنا گہرا ہے کہ وہ خود ایک المیہ بن چکا ہے، فلسطین آج بھی جل رہا ہے، مگر ترجیحات بدل چکی ہیں، اتحاد بکھر چکا ہے، اور مفادات نے نظریات کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، ایران کی کہانی سیاہ و سفید نہیں، یہ سرخ ہے، شہادتوں کے رنگ میں رنگی ہوئی، اس میں قاسم سلیمانی کی گونج ہے، سید ابراہیم رئیسی کی گرج ہے، رہبرالمسین، محافظ القدس آیت اللہ سید علی حسین خامنہ ای کی عظیم قربانی ہے، ڈاکٹر علی لاریجانی کی فکری نظریاتی قربانی ہے، اور آنے والے کل کی غیر یقینی جھلک بھی، مگر ایک حقیقت اٹل ہے، یہ قوم جھکتی نہیں، اس کی قیادت نشانہ بنتی ہے مگر نظریہ نہیں مرتا، سوال یہ نہیں کہ کون زندہ ہے اور کون شہید، سوال یہ ہے کہ کون اپنے نظریے پر قائم ہے، کیونکہ تاریخ ہمیشہ انہی کو یاد رکھتی ہے جو کھڑے رہتے ہیں، چاہے دنیا ان کے خلاف کیوں نہ کھڑی ہو جائے.

Author

اپنا تبصرہ لکھیں