امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے ۔ماہرین کے مطابق اس جنگ کے سیاسی اور معاشی اثرات پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے 86 سالہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہلاک کر کے ایک حیران کن قدم اٹھایا۔ اس کارروائی کو آپریشن ‘ایپک فیوری’ کا نام دیا گیا، جس میں ایران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا لیکن فوری طور پر خامنہ ای کی جگہ تین رکنی گروپ نے سنبھال لی اور ممکنہ طور پر جلد ہی نیا سپریم لیڈر منتخب کیا جائے گا۔
دی اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے سیاسی مقاصد ابھی تک حاصل نہیں ہو سکےمگر امریکا اور اسرائیل نے ایران کی بحری اور ہوائی فوج کی صلاحیتوں کو بہت حد تک کمزور کیا ہےاور میزائل کی پیداوار کے صنعت کو بھی شدید نقصان پہنچایا، لیکن سیاسی اور حکومتی لحاظ سے ایران اب بھی لڑائی میں سرگرم ہے اور مزاحمت کر رہا ہے۔
اس کشیدگی کے عالمی معاشی اثرات بھی واضح ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی ہے، جس سے دنیا کے تقریبا بیس فیصد تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ خلیج فارس ممالک میں توانائی کی اہم تنصیبات پر ایرانی حملوں کے بعد عالمی تیل کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا جبکہ یورپ میں گیس کی قیمت میں بھی ستر فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔
ایران کے اندر بھی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے کیونکہ ملک کی چالیس فیصد آبادی نسلی اقلیتوں پر مشتمل ہے جیسے عرب، آذری، بلوچ، کرد اور لر۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کرد باغیوں کی حمایت کے امکانات بھی داخلی انتشار اور ممکنہ خانہ جنگی کا سبب بن سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کو چاہیے کہ وہ اپنے جنگی مقاصد واضح کریں اور ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے بعد جنگ روک دیں۔ اگر جنگ زیادہ طویل اور بے ترتیب رہی تو یہ خطے میں سیاسی انتشار اور عالمی معیشت میں نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ان حملوں سے قبل بھی ایران کا سیاسی نظام کمزور ترین مرحلے پر تھا اور بغیر کسی بیرونی بمباری کے بھی قابو پایا جا سکتا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جلد بازی اور غیر واضح حکمت عملی کے باعث خطرات بڑھ گئے ہیں اور امریکہ کو ایران میں ایک واضح اور طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ جنگ کے منفی اثرات کم سے کم ہوں۔