‘ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ مصنوعی ذہانت عالمی بھلائی کے لیے استعمال ہو’، بھارت میں اے آئی سمٹ کے چوتھے روز ٹیکنالوجی سے جڑے مواقع اور خطرات پر گفتگو

بھارت میں جاری عالمی مصنوعی ذہانت سربراہی اجلاس کے چوتھے روز اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوتیرس اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون سمیت کئی عالمی رہنماؤں نے خطاب کیا۔ اجلاس میں تیزی سے ترقی کرتی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی سے جڑے مواقع اور خطرات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

نئی دہلی میں ہونے والا یہ بڑا اجتماع 2023 سے شروع ہونے والی عالمی نشستوں کا چوتھا سلسلہ ہے۔ اس سے قبل ایسے اجلاس فرانس، جنوبی کوریا اور برطانیہ میں ہو چکے ہیں۔ رواں سال کے اجلاس میں روزگار پر اثرات، بچوں کی حفاظت اور قوانین سازی جیسے موضوعات سرفہرست ہیں۔

اقوام متحدہ کے سربراہ انٹونیو گوتریس نے اپنے خطاب میں خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کا مستقبل چند ارب پتی افراد کی مرضی پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مالکان سے اپیل کی کہ وہ تین ارب ڈالر کے عالمی فنڈ کے قیام میں تعاون کریں تاکہ اس جدید ٹیکنالوجی تک سب کی رسائی ممکن بنائی جا سکے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ قواعد و ضوابط کی تشکیل میں گہری شمولیت ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ صرف ضابطہ سازی پر نہیں بلکہ جدت اور سرمایہ کاری پر بھی توجہ دیتا ہے، تاہم یہ ایک محفوظ ماحول بھی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے بھارت جیسے اتحادیوں کے ساتھ مل کر مستقبل کے اصول طے کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

اگرچہ اس سال کا اجلاس اب تک کا سب سے بڑا قرار دیا جا رہا ہے اور ہزاروں افراد اس میں شریک ہیں، تاہم ایک نمایاں شخصیت کی عدم موجودگی بھی توجہ کا مرکز بنی۔ مائیکروسافٹ کے بانی بِل گیٹس نے خطاب سے چند گھنٹے قبل شرکت منسوخ کر دی۔ گیٹس فاؤنڈیشن کے مطابق، یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا تاکہ توجہ اجلاس کے اہم نکات پر مرکوز رہے۔ ان کی جگہ فاؤنڈیشن کا ایک اور نمائندہ خطاب کرے گا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ عالمی سطح کا مصنوعی ذہانت اجلاس کسی ترقی پذیر ملک میں ہو رہا ہے، جسے بھارت اپنے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کرنے کے موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ گزشتہ سال اسٹینفورڈ کے محققین کی ایک عالمی درجہ بندی میں بھارت مصنوعی ذہانت کی مسابقت کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر آ گیا تھا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور چین کا مقابلہ کرنے کے لیے بھارت کو ابھی طویل سفر طے کرنا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حال ہی میں بھارتی کمپنیوں کی جانب سے تیار کیے گئے مصنوعی ذہانت ماڈلز اس بات کا ثبوت ہیں کہ جو ماڈل بھارت میں کامیاب ہوگا، اسے دنیا بھر میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی اسی وقت فائدہ مند ثابت ہوگی جب اسے سب کے ساتھ بانٹا جائے اور اس کے بنیادی نظام کھلے ہوں، تاکہ نوجوان ذہن اسے مزید بہتر اور محفوظ بنا سکیں۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ مصنوعی ذہانت کو عالمی بھلائی کے لیے استعمال کیا جائے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں