الزائمر کے اثرات کو کچھ وٹامنز کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے

الزائمر ایک دماغی بیماری ہے جو عمر کے ساتھ ساتھ یادداشت، سوچنے کی صلاحیت اور روزمرہ کے کاموں کو انجام دینے کی قابلیت کو متاثر کرتی ہے۔

یہ بیماری بتدریج بڑھتی ہے اور اس کا کوئی مکمل علاج فی الحال موجود نہیں، تاہم سائنسی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ، بعض وٹامنز ایسے ہیں جو الزائمر کی پیش رفت کو سست کرنے یا اس کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

وٹامن بی 12 دماغی صحت اور اعصابی نظام کی کارکردگی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس کی کمی سے یادداشت کی کمزوری، ذہنی دھند اور دیگر دماغی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اگر بی 12 کی مقدار جسم میں مناسب ہو تو یہ دماغی تنزلی کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کر سکتی ہے۔

اسی طرح، وٹامن بی 6 اور بی 9 (جسے فولک ایسڈ بھی کہا جاتا ہے) ایسے اجزاء ہیں جو جسم میں موجود ہوموسسٹین نامی زہریلے کیمیکل کو کم کرتے ہیں۔ ہوموسسٹین کی زیادتی دماغی خلیات کو نقصان پہنچاتی ہے، اس لیے ان وٹامنز کا استعمال دماغی حفاظت میں مددگار ہوتا ہے۔

وٹامن ڈی، جسے ‘سن لائٹ وٹامن’ بھی کہا جاتا ہے، دماغی افعال اور موڈ کے توازن کے لیے اہم ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ، وٹامن ڈی کی کمی نہ صرف ذہنی کارکردگی پر اثر ڈالتی ہے، بلکہ الزائمر کے خطرے کو بھی بڑھا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ وٹامن ای ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو دماغی خلیات کو فری ریڈیکلز سے محفوظ رکھتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ، وٹامن ای خاص طور پر درمیانی درجے کے الزائمر میں بیماری کی رفتار سست کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

اگرچہ وٹامنز الزائمر کا علاج نہیں ہیں، لیکن ان کا مناسب استعمال دماغی صحت کی بہتری میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ، وٹامنز کو غذا کے ذریعے حاصل کرنا زیادہ مؤثر اور محفوظ ہوتا ہے، تاہم اگر سپلیمنٹس کی ضرورت ہو تو انہیں ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کیا جائے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ، وٹامنز کی مقدار متوازن ہو کیونکہ ان کا حد سے زیادہ استعمال بعض اوقات نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔ دماغی صحت کے تحفظ کے لیے صحت مند طرزِ زندگی، مناسب نیند، ذہنی مشقیں اور متوازن غذا کے ساتھ وٹامنز کا استعمال ایک مؤثر حکمتِ عملی ہو سکتی ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں