وزن کم کرنے کی خواہش آج کے دور میں بہت سے افراد کا مشترکہ مسئلہ بن چکی ہے۔ سوشل میڈیا پر آئے دن ایسی مصنوعات اور نسخے سامنے آتے رہتے ہیں جو کم وقت میں وزن گھٹانے کے دعوے کرتے ہیں، جس کے باعث لوگ ان کی طرف تیزی سے متوجہ ہو جاتے ہیں۔
انہی دنوں سوشل میڈیا پر ایک نئی ڈرنک ’اوٹزیمپک‘ (Oatzempic) خاصی مقبول ہو رہی ہے، جسے قدرتی طریقے سے وزن کم کرنے کا مؤثر حل قرار دیا جا رہا ہے۔ مختلف ویڈیوز اور پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ مشروب بھوک کو کم کرتا ہے، زیادہ دیر تک پیٹ بھرے ہونے کا احساس دلاتا ہے اور مہنگی وزن کم کرنے والی ادویات کا قدرتی متبادل ہے۔
اوٹزیمپک کا نام دراصل مشہور دوا اوزیمپک سے متاثر ہو کر رکھا گیا ہے، جو عام طور پر ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں کے علاج میں استعمال کی جاتی ہے۔ بعض سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس ڈرنک کے استعمال سے صرف چند ہفتوں میں نمایاں وزن کم کیا، جبکہ کچھ افراد نے دو ماہ میں 40 پاؤنڈ تک وزن گھٹانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
یہ ڈرنک تیاری کے لحاظ سے نہایت سادہ ہے، جس میں اوٹس، پانی اور تازہ لیموں کا رس شامل کیا جاتا ہے۔ ذائقے میں بہتری کے لیے بعض افراد اس میں دارچینی یا معمولی مقدار میں شہد بھی شامل کرتے ہیں، تاہم بنیادی اجزاء یہی ہوتے ہیں۔
غذائی ماہرین کے مطابق اوٹس میں موجود بیٹا گلوکن نامی حل پذیر فائبر ہاضمے کے عمل کو سست کرتا ہے، جس کے نتیجے میں بھوک دیر سے لگتی ہے اور انسان کم کھانا کھاتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جو افراد ناشتہ میں اوٹس کا استعمال کرتے ہیں، ان میں بھوک کی شدت نسبتاً کم پائی جاتی ہے۔
لیموں کا رس جسم کو وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹس فراہم کرتا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ وزن کم کرنے میں اس کا کردار محدود ہوتا ہے اور اسے کسی جادوئی حل کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
سوشل میڈیا ٹرینڈ کے مطابق اوٹزیمپک ڈرنک کو روزانہ صبح ناشتے کے متبادل کے طور پر پینے کا مشورہ دیا جا رہا ہے، تاکہ دن بھر بھوک کم محسوس ہو۔ تاہم ماہرینِ غذائیت خبردار کرتے ہیں کہ صرف ایک ہی مشروب پر انحصار کرنے سے جسم کو ضروری پروٹین، وٹامنز اور دیگر غذائی اجزاء کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے، جو صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وزن کم کرنے کے لیے متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور صحت مند طرزِ زندگی کو اپنانا ہی سب سے محفوظ اور مؤثر طریقہ ہے، جبکہ کسی بھی وائرل نسخے کو اپنانے سے قبل احتیاط ضروری ہے۔