نوجوانوں کیلئے نیا جال

ماڈل ٹاؤن کی لال بس جیسے ہی نہر کے پل کے قریب پہنچتی، کنڈکٹر چلاتا، ایف سی کالج والے اتر جائیں۔ ہم چھ سات لڑکے، سڑک پار قدرے اترائی پر پتلی سی سڑک پر قریبا ایک کلومیٹر کی مسافت پر واقع کالج تک پیدل جاتے اور راستے میں خوب شوخیاں کرتے.بس سٹاپ کی نکڑ پر ، جہاں اب 1122 کا ریسکیو سٹیشن ہے، پان، وہاں سگریٹ کا ایک کھوکھا ہوا کرتا تھا۔ سینئر لڑکے وہاں ایک لمحہ کیلئے رکتے اور چار آنے ادا کرکے کیپسٹن کا ایک سگریٹ سلگا لیتے اور کالج جاتے جاتےبے فکری سے کش لگاتے ۔ سفید دھویں کے مرغولے بناتے۔ وقت خوب گزر جاتا۔ ہم فرسٹ ائیر کے نوخیز جونیئرز نے انکی دیکھا دیکھی سگریٹ نوشی کی دنیا میں بڑی شان وشوکت سے پہلا قدم رکھا۔ شومئی قسمت، میرا گلا پہلے ہی روز دھویں اور ورم کے سبب سوج گیا۔ وہ دن اور آج کا دن ، میں تو زندگی بھر کیلئے اس لت سے محفوظ ہوگیا. جن دوستوں کو اس وقت تمباکو نوشی کی عادت پڑگئی۔وہ آج تک نہیں گئی۔ اس زمانے میں سگریٹ پینا مردانگی، وجاہت اور شان وشوکت کی نشانی سمجھے جاتے۔نیوزی لینڈ کے بہترین ورجینیا تمباکو سے بنے سگریٹ کے کش لگاتا۔ہالی وڈ کا خوبرو ہیرو، جب کہتا
Men demand Capstan…the world over. تو نوجوانوں کے چہرے تمتانے لگتےاور ہر کوئی سگریٹ طلب کرتا نظر آتا
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے
اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے
مگر، آہستہ آہستہ، دنیا میں اس بات کا چرچا عام ہوا کہ تمباکو نوشی پیھپڑوں کے سرطان کا بڑا سبب ہے ۔ دنیا بھر میں اسکے خلاف مہمات شروع ہوئیں۔ پھر بتدریج پبلک مقامات، دفاتر اور تعلیمی اداروں میں اس کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی۔ تمام تر ترغیبات کے باوجود،تمباکو نوشی دنیا بھر میں آج بھی اتنی ہی مقبول ہے جتنی ایک صدی پہلے تھی ۔اسکا عفریت، روزانہ بیسیوں افراد کو موت کی دہلیز کی جانب دھکیل رہا ہے۔
ہہت برس پہلے مجھے کسی کانفرنس میں انڈونیشیا جانےکا اتفاق ہوا۔ وہاں تمباکو نوشی بہت عام ہے،بلکہ آپ کو نان سموکر مشکل سے نظر آئے گا۔ ان کا بیڑی نما سگریٹ بہت مقبول ہے۔ آپ اسے سگار کا بچہ کہہ سکتے ہیں۔ہمارے یہاں کراچی میں بیڑی ابھی بھی بہت پی جاتی ہے۔ پاکستان میں تمباکو نوشی کی شرح بیس فیصد سے زائد ہے۔ گاوں میں لوگ حقہ شوق سے پیتے ہیں اور بڑی بوڑھی خواتین بھی اس کی عادی نظر آتی ہیں.
گزشتہ دنوں مجھے لاہور بک فیئر کی تقریب میں شرکت کے لیے Expo center جانے کا اتفاق ہوا ۔ دوپہر کا وقت تھا،مجھے بک فیئر کے سامنے کی پارکنگ میں گاڑیاں کم کم ہی نظر آئیں، جبکہ دوسرے ہال میں بھی کوئی ایونٹ چل رہا تھا۔ کتاب میلے میں حاضری گذشتہ سالوں سے کافی کم تھی۔ بہت سے کتب ساز اداروں نےسٹال مہنگا ہونے کے باعث اس میں حصہ ہی نہیں لیا تھا۔یہ بھی ایک المیہ سے کم نہیں ،واپسی پر ڈرائیور نے گاڑی برابر کے ہال کے قریب پارک کی تھی۔وہاں بہت رونق نظر آئی۔ میں نے سوچا،دیکھنے میں کیا حرج ہے۔ہال کے باہر لکھا تھا، Vape Expo 2025
ہال میں نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کا ازدحام تھا۔ درمیان میں سجے سٹیج پر گانے بجانے اور رقص و موسیقی کی ایک نرالی دنیا آباد تھی۔ ایک عجب طرح کی جادوئی مہک، خوشبو اور نشہ فضا میں رچا تھا۔ میں نے ایک سٹال کا رخ کیا جہاں کالج کی نوجوان لڑکیاں vape خرید رہی تھیں۔ خصوصی رعایتی قیمت پر یہ الیکٹرانک سگریٹ وافر دستیاب تھے اور یہ امر بھی باعث حیرت لگا کہ، حاضرین میں لڑکیوں کی اچھی خاصی تعداد موجود تھی اور سٹیج پر کسی پرفارمر کے ساتھ سیلفیاں بنوانے میں مصروف۔
آج کل سگریٹ کی نئی نسل کو vape کہا جاتا ہے ،یہ الیکٹرانک سگریٹ ہے اور اس میں بیٹری کی مدد سے نکوٹین کے محلول کے کش لگائے جاتے ہیں۔ان میں کچھ ڈسپوزیبل ہیں اور کچھ ری فل کئے جاسکتے ہیں۔ اور ان کی قیمت چھ سات سو روپے سے لے کر آٹھ دس ہزار تک تھی۔ اکثر میں بیٹری سیل ڈلتے ہیں اور کچھ کے ساتھ موبائل جیسا چارجر بھی ملتا ہے۔
مجھے ایک بڑے نجی سکول کی ٹیچر نے بتایا کہ، سینئر کلاسوں میں vape پینے والی طالبات کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔انہیں تشویش تھی کہ، ان لڑکیوں کو دیگر منشیات کی جانب راغب کرنا بہت آسان ہے .
اسی نمائش کے دوران ایک سٹال پر پونی ٹیل سجائے ایک نوجوان مبلغ نوجوانوں کو بتا رہا تھا کہ،
It’s the safest and harmless way of smoking ۔۔۔ a dashing and futuristic lifestyle ….
درحقیقت وہ صریح غلط بیانی کر رہا تھا۔ جدید تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ، الیکٹرانک سگریٹ بھی کم وبیش اتنا ہی مہلک ہے،بلکہ اس کے ذریعے پیھپڑوں میں جذب ہونے والے نکوٹین کی مقدار کافی زیادہ ہے۔ اس میں طرح طرح کے فلیور اور کیمیکل بھی استعمال کئے جاتے ہیں،جو نقصان دہ ہیں۔ اس سے دل کا عارضہ بھی لاحق ہو سکتا ہے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ، اس کا انسانی صحت پر اثر تمباکو نوشی سے کچھ کم ہے،مگر اس کا نشہ سگریٹ سے کافی زیادہ ہے۔ دوسرا اسے استعمال کرنے والوں کی بڑی تعداد جلد یا بدیر سگریٹ پر شفٹ ہوجاتی ہے۔اس کو انسانی صحت کیلئے محفوظ جتلا کر، سرمایہ دار اور اس کا بنا نظام چابکدستی سے بے بہا مالی فائدہ اٹھا رہا ہے۔اس کاروبار کے تیزی سے بڑھتے ہوئے پھیلاو کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ، ماڈل ٹاؤن پارک کے سامنے اور بنک سکوئر مارکیٹ میں گزشتہ سالوں میں قریبا دس نئے vape store کھل چکے ہیں۔
سوال ہے کہ، نوجوانوں کو اس بڑھتے ہوئے وبال سے کیسے محفوظ کیا جائے ۔
اس میں سب سے بڑا کردار والدین، اساتذہ اور بڑوں کا ہے،جوان ہوتے بچوں سے مکالمہ کیجئے، انہیں دھویں کے بغیر سگریٹ اور نکوٹین کے مضر اثرات سے آگاہ کیجئے۔ تمباکو سے پاک گھرانے کی مثال قائم کریں۔ بچوں کی کمپنی پر نظر رکھیں۔ ان کے جیب خرچ کو ضرورت کے مطابق باندھیں. اس وقت کی گئی سختی، ان کی عادات، شخصیت اور کردار کی تعمیر میں بہت اہم کردار کی حامل ہے۔
پاکستان میں روزانہ چھ سال سے 15 سال کی عمر کے1200 بچے اس جال میں پھنستے جارہے ہیں۔
دل کے ٹکڑوں کو بغل میں لئے بھرتا ہوں
کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں

Author

اپنا تبصرہ لکھیں