ازبکستان کا عمرہ پلس پروگرام میں توسیع ، سبسڈی اور نئی فلائٹس کے ذریعے زیارتی سیاحت کو فروغ دینے کا فیصلہ

ازبکستان کی کابینہ نے ملکی معیشت میں سیاحت کو ایک اسٹریٹجک شعبے کے طور پر فروغ دینے اور عمرہ اور زیارتی سیاحت کے انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے "عمرہ پلس” پروگرام میں اضافی اقدامات اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام صدر کے فرامین کے تحت 9 فروری 2021 کو منظور کیے گئے "ازبکستان میں داخلی اور زیارتی سیاحت کو فروغ دینے کے اقدامات” کے تسلسل میں لیا گیا ہے۔

نئے اقدامات کے تحت منصوبہ بنایا گیا ہے کہ 2026–2027 تک ملائشیا اور انڈونیشیا سے زیارتی سیاحوں کی تعداد 1 لاکھ تک پہنچائی جائے۔ اس پروگرام کے تحت ٹور آپریٹرز کو ہر سیاح کے لیے 100 امریکی ڈالر کی سبسڈی فراہم کی جائے گی، جو مذکورہ ممالک سے "عمرہ پلس” کے تحت ازبکستان لائے جائیں گے۔

اس کے علاوہ ازبکستان کے سیاحتی مواقع کو جنوب مشرقی ایشیائی منڈیوں میں فروغ دینے کے لیے ایک جامع منصوبہ بھی ترتیب دیا گیا ہے۔ اس میں رمضان اور قربان بایرام کی تقریبات کا انعقاد شامل ہے، جس میں ملائشیا اور انڈونیشیا کے سیاح شرکت کریں گے۔ اس مہم کی تشہیر کے لیے خصوصی پروگرام جیسے "امام بخاری کے قدموں کے نشان” اور "ازبکستان میں رمضان گزاریں” چلائے جائیں گے، نیز ان علاقوں میں روڈشوز کا انعقاد کیا جائے گا جہاں مسلم آبادی زیادہ ہے۔

سیاحتی راستوں میں تاشقند کے ساتھ ساتھ سمرقند اور بخارا کے اہم مقامات کو شامل کیا جائے گا۔ ثقافتی ورثے کے ادارے اور مقامی حکومتوں کے تعاون سے شرکاء کو آف سیزن میں کلچرل سائٹس، رہائش، کھانے پینے اور دیگر خدمات پر رعایت دی جائے گی، جو موسم سرما میں 20 نومبر سے 20 فروری اور موسم گرما میں جولائی کے دوران دستیاب ہوں گی۔

مزید برآں، وزارت ٹرانسپورٹ، وزارت خارجہ اور ٹورزم کمیٹی کے تعاون سے دو ہفتوں کے اندر کم از کم 10 طیارے مقامی اور بین الاقوامی کیریئرز سے حاصل کیے جائیں گے، جن میں لیز پر طیارے بھی شامل ہوں گے۔ ٹور آپریٹرز کے لیے مسابقتی فضائی روٹس پیش کی جائیں گی، جن میں کوا لالیمپور–سمرقند–کوا لالیمپور، کوا لالیمپور–بخارا–جدہ–کوا لالیمپور، جکارتہ–سمرقند–جدہ–جکارتہ اور جکارتہ–بخارا–جدہ–جکارتہ شامل ہیں

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں