واشنگٹن کے ورکنگ دورے کے دوران ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے ایک خصوصی تقریب میں شرکت کی، جہاں متعدد دوطرفہ معاہدوں پر دستخط کیے گئے اور مشترکہ منصوبوں پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
اس موقع پر امریکی حکومت اور مالیاتی اداروں کے اعلیٰ نمائندے موجود تھے، جن میں امریکی تجارتی نمائندہ جیمز گریئر، صدارتی خصوصی ایلچی پاؤلو زیمپولی، ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے صدر و چیئرمین جان جووانووچ اور امریکا۔ازبکستان چیمبر آف کامرس کی چیئر کیرولین لام شامل تھیں۔ اس کے علاوہ بڑی امریکی کمپنیوں، جان ڈیئر، بلیک راک، اوپن ہائیمر، ٹریکسس، ویلمونٹ انڈسٹریز، گلف آئل اور ایویاجن برائلر بریڈنگ گروپ کے عہدیداران نے بھی شرکت کی، جبکہ ازبکستان کے مختلف علاقوں کے گورنرز ویڈیو کانفرنس کے ذریعے تقریب میں شریک ہوئے۔
اس موقع پر صدر مرزائیوف نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ ملاقات ایک نئے اور عملی انداز میں منعقد کی گئی ہے اور اس سے قبل ہونے والے “راؤنڈ ٹیبل” اجلاس کا منطقی تسلسل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری اب اسٹریٹجک اعتماد اور باہمی مفاد کی سطح تک پہنچ چکی ہے۔ ان کے مطابق آج کے دور میں شراکت داروں کی قابلِ اعتماد حیثیت اور طویل المدتی تعاون کو خاص اہمیت حاصل ہے اور امریکا کے ساتھ تعلقات اسی بنیاد پر استوار کیے جا رہے ہیں۔

تقریب میں ازبکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے اہم ترجیحات کا بھی تعین کیا گیا۔ صدر نے واضح کیا کہ اقتصادی ایجنڈا، ازبکستان اور امریکا کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے اہم معدنیات، پیٹرو کیمیکل، توانائی، زراعت اور پولٹری فارمنگ کو مشترکہ کام کے ترجیحی شعبے قرار دیا۔
اس موقع پر امریکی انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف امریکا کے کردار کو بھی سراہا گیا، جو سرمایہ کاری کے منصوبوں اور مالیاتی لین دین میں اہم معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ صدر نے مشترکہ بزنس اور انویسٹمنٹ کونسل کی صلاحیتوں کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے پر زور دیا اور ہدایت کی کہ ازبکستان کے علاقائی رہنماؤں کے امریکا کی شراکت دار ریاستوں کے دوروں کا اہتمام کیا جائے تاکہ بین العلاقائی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔
جن معاہدوں پر دستخط کیے گئے ان میں فیول اسٹیشنز کے نیٹ ورک کی تعمیر، اسپرنکلر آبپاشی ٹیکنالوجی کا نفاذ، اہم معدنیات کی کان کنی اور فراہمی، پولٹری کلسٹر کا قیام، زرعی و صنعتی شعبے کی ترقی، مالیاتی منڈی کی بہتری اور سرمایہ کاری کے ماحول کو مزید سازگار بنانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔