ازبکستان کس طرح کمزور شہریوں کے لیے نظام میں اصلاحات کر رہا ہے؟

ازبکستان میں گذشتہ دو برسوں کے دوران سماجی تحفظ کے شعبے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی گئی ہیں جنہوں نے ملک کے سب سے پسماندہ اور ضرورت مند شہریوں تک صحت اور سماجی سہولتیں تیزی سے پہنچانا ممکن بنایا ہے۔

2023 سے ازبک حکومت نے درجنوں بکھری ہوئی فلاحی، معذوری اور غربت مٹاؤ اسکیموں کو ایک مرکزی ڈھانچے کے تحت نیشنل ایجنسی فار سوشل پروٹیکشن (NASP) کے سپرد کیا۔ اب یہ خدمات ایک ڈیجیٹل نظام کے ذریعے منظم کی جا رہی ہیں، جس سے امداد کی فراہمی تیز، شفاف اور نتیجہ خیز بنتی جا رہی ہے۔

معذور افراد کے لیے نیا نظام

اصلاحات کے نتیجے میں اب تک 92 ہزار معذور افراد کو روزگار ملا ہے جبکہ 10 ہزار سے زائد افراد دوبارہ خود مختار زندگی گزارنے کے قابل ہوئے ہیں۔

2023 میں “رجسٹری آف پرسنز ریکوائرنگ کیئر” کے نام سے ایک ڈیجیٹل ریکارڈ متعارف کرایا گیا، جس میں ان افراد کا اندراج کیا جاتا ہے جو روزمرہ زندگی کے معمولات خود سرانجام دینے کے قابل نہیں ہوتے۔ اب تک 17 ہزار 800 افراد کا اندراج کیا گیا ہے، جن میں سے 10 ہزار سے زائد کو ضرورت نہ رہنے پر فہرست سے نکالا جا چکا ہے۔

اس نظام کے ذریعے معذور افراد کو وہیل چیئر، مصنوعی اعضا، دوائیں اور گھروں میں ضروری تبدیلیاں فراہم کی جا رہی ہیں۔ صرف 2024 میں 1 لاکھ 4 ہزار آلات (جیسے بچوں کے لیے وہیل چیئر اور بایونک ہاتھ) تقسیم کیے گئے۔

غربت کے شکار خاندانوں کے لیے سہارا

2024 میں “نیشنل رجسٹری آف لو انکم فیملیز” بھی قائم کی گئی، جس نے اب تک 6 لاکھ 21 ہزار ایسے خاندانوں کی نشاندہی کی ہے جو خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ہر خاندان کے لیے ایک انفرادی سروس پلان بنایا جاتا ہے جس میں نقد امداد کے ساتھ ملازمت، تعلیم اور صحت کی سہولتیں شامل ہیں۔

اب تک اس نظام کے تحت تقریباً 20 لاکھ صحت کی خدمات، 10 لاکھ کے قریب روزگار کے مواقع اور ہزاروں تعلیمی و قانونی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔

ڈیجیٹلائزیشن اور جدید سہولتیں

ازبکستان کے شہری موبائل ایپ Mylhma کے ذریعے سہولتیں حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہاٹ لائنز بھی قائم ہیں جو عام مسائل سے لے کر خواتین و بچوں پر تشدد کی شکایات تک مختلف معاملات پر مدد فراہم کرتی ہیں۔

اب “آرٹیفیشل انٹیلی جنس” پر مبنی کال سینٹر بھی تیار کیا جا رہا ہے، جو ازبک اور روسی زبانوں میں خدمات دے گا اور خصوصی طور پر ایسے افراد کے لیے مددگار ہوگا جنہیں بولنے میں دشواری ہوتی ہے۔

اگرچہ اصلاحات سے بڑی کامیابیاں ملی ہیں، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا چیلنج ڈیجیٹل نظام کی بڑھتی ہوئی طلب کے ساتھ ہم آہنگ رہنا ہے۔ اس کے لیے سائبر سکیورٹی، ڈیٹا انٹیگریشن اور بروقت اپ ڈیٹس کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں